LIVE
Loading Breaking News...

برطانیہ میں ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر، درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ

News Image
برطانیہ میں رواں موسم گرما کے دوران شدید گرمی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں جس سے عوامی معمولات شدید متاثر ہوئے ہیں۔ موسم کی بدلتی صورتحال کے پیش نظر ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کا یہ سلسلہ ابھی جاری رہے گا۔
برطانیہ میں جاری موسم گرما کے دوران گرمی کی شدید لہر نے نئے موسمیاتی ریکارڈ قائم کر دیے ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، برطانیہ میں 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت والے دنوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے گزشتہ تمام ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ یہ زمین کے بدلتے ہوئے ماحولیاتی نظام کی عکاسی کرتا ہے۔ شہریوں کو شدید حبس اور گرمی کے باعث اپنی صحت کے حوالے سے خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ ملک بھر میں جاری اس شدید گرمی کی لہر نے نظام زندگی کو متاثر کر دیا ہے۔ عام طور پر معتدل موسم رکھنے والے اس خطے میں 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت کو ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم حالیہ کچھ ہفتوں سے جاری گرمی کی شدت نے عام شہریوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ عوامی مقامات، دفاتر اور ٹرانسپورٹ کے نظام پر اس گرمی کے اثرات واضح نظر آ رہے ہیں، اور حکومتی اداروں کی جانب سے ہیٹ ویو کے حوالے سے الرٹ جاری کیے گئے ہیں۔ ماحولیاتی سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال موسمیاتی تبدیلیوں (کلائمیٹ چینج) کے اثرات کا نتیجہ ہو سکتی ہے۔ درجہ حرارت میں تسلسل کے ساتھ ہونے والا یہ اضافہ مستقبل میں مزید چیلنجز کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں گرمی کی یہ شدت مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے نہ صرف انسانی صحت بلکہ زراعت اور انفراسٹرکچر پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے شہریوں کو گھروں کے اندر رہنے اور پانی کا زیادہ استعمال کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ نیکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق، موسم کے بدلتے ہوئے اس مزاج نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف شہری اس گرمی سے نبرد آزما ہیں، وہیں دوسری جانب متعلقہ محکمے موسمیاتی ڈیٹا کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی وضع کی جا سکے۔ آنے والے دنوں میں درجہ حرارت کی صورتحال پر نظر رکھنا ضروری ہوگا تاکہ کسی بھی قسم کے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات اٹھائے جا سکیں۔