Business
امریکہ اور ایشیا میں چپ اسٹاکس میں گراوٹ، مصنوعی ذہانت پر خدشات
مصنوعی ذہانت کے مستقبل کے بارے میں سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے خدشات کی وجہ سے امریکہ اور ایشیا کی چپ بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ اس مندی کے اثرات کے باعث منگل کی صبح جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں آٹھ فیصد کمی کے بعد تجارتی سرگرمیاں عارضی طور پر معطل کرنا پڑیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت شدید ہلچل مچ گئی جب مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے خدشات بڑھنے لگے اور امریکہ سمیت ایشیائی مارکیٹوں میں چپ ساز کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ اس منفی رجحان کا سب سے زیادہ اثر ایشیائی مارکیٹوں پر پڑا جہاں ٹیکنالوجی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کار انتہائی محتاط نظر آئے۔ صورتحال اس حد تک بگڑی کہ جنوبی کوریا کے معروف کوسپی (Kospi) انڈیکس میں منگل کی صبح کے وقت اچانک آٹھ فیصد تک کی بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔ منڈی میں اس طوفانی مندی کے پیش نظر حکام کو فوری طور پر مداخلت کرنا پڑی اور احتیاطی تدابیر کے تحت تجارتی سرگرمیوں کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تعطل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے اور مارکیٹ کے ہیجان کو قابو میں لانے کے لیے ضروری تھا۔ دوسری جانب وال اسٹریٹ اور دیگر امریکی منڈیوں میں بھی ٹیکنالوجی بالخصوص سیمی کنڈکٹر اور چپ بنانے والی بڑی کمپنیوں کے شیئرز دباؤ کا شکار رہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران مصنوعی ذہانت کے شعبے میں غیر معمولی تیزی آئی تھی اور کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ تاہم، اب سرمایہ کار اس بات پر غور کر रहे ہیں کہ آیا اس بھاری سرمائے کی واپسی کی توقعات حقیقت پسندانہ ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ عالمی معیشت میں سست روی کے خدشات اور شرح سود کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے بھی سرمایہ کاروں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت کا طویل مدتی مستقبل روشن نظر آتا ہے، لیکن قلیل مدت میں مارکیٹ اس شعبے کی حد سے زیادہ قیمتوں اور توقعات کا بوجھ اٹھا رہی ہے جس کی وجہ سے وقتاً فوقتاً ایسی اصلاحی گراوٹیں دیکھنے میں آ سکتی ہیں۔ آنے والے دنوں میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کی کارکردگی اور مالیاتی رپورٹس اس بات کا تعین کریں گی کہ منڈی کا یہ دباؤ مزید گہرا ہوتا ہے یا حالات معمول پر آتے ہیں۔