Health
الیکٹرک سکوٹر کے خطرناک حادثات: نو سال کے بچے بھی زخمی
برطانیہ کے تین بڑے ٹراما سینٹرز میں 16 سال سے کم عمر کے بچوں کے الیکٹرک سکوٹر حادثات کے شکار ہونے کے تقریباً 500 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ ماہرین صحت نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ نو سال تک کے کم عمر بچے بھی اس سواری کے استعمال کے دوران شدید چوٹوں کا شکار ہو رہے ہیں۔
برطانیہ کے مختلف شہروں میں الیکٹرک سکوٹرز کے استعمال سے ہونے والے حادثات میں 16 سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد طبی ماہرین کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گئی ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق لیورپول، مانچسٹر اور شیفیلڈ کے تین بڑے ٹراما سینٹرز میں تقریباً 500 ایسے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں 16 سال سے کم عمر بچے بری طرح زخمی ہوئے۔ ان متاثرین میں نو سال تک کی عمر کے کم سن بچے بھی شامل ہیں جو سکوٹر پر سواری کے دوران گر کر یا ٹریفک حادثات کی زد میں آ کر شدید چوٹیں کھا چکے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان حادثات میں زیادہ تر سر، چہرے اور ہڈیوں کے فریکچر جیسے سنگین نوعیت کے زخم دیکھنے میں آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق الیکٹرک سکوٹرز کی تیز رفتاری اور ان پر سوار ہونے والے بچوں کے پاس حفاظتی آلات جیسے ہیلمٹ کا نہ ہونا ان حادثات کی بنیادی وجوہات ہیں۔ چونکہ یہ سکوٹرز سڑکوں پر تیزی سے چل سکتے ہیں، اس لیے چھوٹی عمر کے بچوں کے لیے ان کا کنٹرول سنبھالنا مشکل ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ اکثر توازن کھو بیٹھتے ہیں اور حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اس صورتحال کے پیش نظر ہیلتھ حکام نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو الیکٹرک سکوٹر دینے سے گریز کریں یا پھر اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ انتہائی احتیاط کے ساتھ اور محفوظ علاقوں میں ہی اس کا استعمال کریں۔ سڑکوں پر بڑھتی ہوئی ٹریفک اور سکوٹرز کی تعداد کے تناسب سے حفاظتی آگاہی مہمات چلانے کی ضرورت پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ ٹراما سینٹرز کے اعداد و شمار ایک تنبیہ کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں تاکہ والدین اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے مزید اقدامات کر سکیں۔
مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو کم کرنے کے لیے عوامی سطح پر قانون سازی اور عمر کی حد کے تعین پر بھی بحث کی جا رہی ہے۔ ماہرینِ صحت کا ماننا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو سکوٹر سے گرنے یا ٹکرانے کے باعث زخمی ہونے والے بچوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ انہیں ان غیر ضروری حادثات سے محفوظ رکھا جا سکے اور بچوں کی زندگیوں کو خطرے سے بچایا جا سکے۔