LIVE
Loading Breaking News...

کولمبیا زلزلہ: 254 ہلاکتیں، امدادی کارروائیاں تیز

News Image
کولمبیا میں آنے والے ایک ہولناک زلزلے کے نتیجے میں اب تک 254 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔
کولمبیا میں آنے والے ایک انتہائی تباہ کن زلزلے نے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا ضیاع کیا ہے، حکام کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک کم از کم 254 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ کئی رہائشی عمارتیں اور تجارتی مراکز زمین بوس ہو گئے، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور امدادی اداروں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ موجود ہے کیونکہ بہت سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا تاحال ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ اس مشکل گھڑی میں ریسکیو ٹیمیں اور مقامی رضاکار اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے لوگوں کو زندہ نکالنے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ ہیوی مشینری اور جدید آلات کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا عمل جاری ہے، تاہم مواصلاتی نظام میں خلل اور سڑکوں کی بندش کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ہنگامی صورتحال نافذ کر دی گئی ہے اور بین الاقوامی سطح پر بھی امدادی پیشکشیں کی جا رہی ہیں تاکہ متاثرین کو فوری طبی امداد اور خوراک فراہم کی جا سکے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد کا منظر انتہائی تکلیف دہ ہے جہاں ہر طرف تباہی کے آثار نمایاں ہیں۔ ہسپتالوں میں زخمیوں کی بڑی تعداد لائی جا رہی ہے جہاں طبی عملہ محدود وسائل کے باوجود مریضوں کو بچانے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ملک بھر میں سوگ کی فضا ہے جبکہ صدر نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مشکل وقت میں یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ ریسکیو حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک ایک بھی شخص کے ملبے تلے دبے ہونے کا امکان موجود ہے، تلاش کا کام مکمل نہیں کیا جائے گا۔ فی الحال زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی فنڈز جاری کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ بحالی کے کاموں کا آغاز جلد کیا جا سکے۔ پوری دنیا کولمبیا کے عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کر رہی ہے اور اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں نقصانات کا حتمی تخمینہ لگایا جائے گا لیکن فی الحال تمام تر توجہ انسانی جانوں کو بچانے پر مرکوز ہے۔