World
نیو میکسیکو طیارہ حادثہ: امریکی فوجی تجربات کی حقیقت بے نقاب
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی رپورٹ میں نیو میکسیکو میں ہونے والے طیارہ حادثے کی ذمہ داری فوجی مشقوں پر عائد کی گئی ہے۔ لیفٹیننٹ کرنل ڈینیئل ڈیوس نے پینٹاگون کے خفیہ دفاعی پروگراموں کے غیر شفاف طریقہ کار کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
حال ہی میں نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (NTSB) کی جانب سے جاری کردہ ایک تفصیلی رپورٹ نے امریکی فضائیہ اور پینٹاگون کی خفیہ فوجی سرگرمیوں پر شدید شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔ یہ رپورٹ گزشتہ برس مئی میں نیو میکسیکو کے علاقے میں پیش آنے والے ایک المناک شہری طیارہ حادثے کے بارے میں ہے، جس میں چار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ کوئی عام تکنیکی خرابی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ قریبی علاقے میں کی جانے والی ایک خفیہ فوجی مشق اس حادثے کا براہ راست سبب بنی۔
اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کرنل ڈینیئل ڈیوس نے پینٹاگون کے دہائیوں پر محیط خفیہ دفاعی پروگراموں پر سخت تنقید کی ہے۔ ڈیوس کا کہنا ہے کہ پینٹاگون کی جانب سے کیے جانے والے تجرباتی ہتھیاروں کے ٹیسٹ اکثر بغیر کسی احتیاط اور شفافیت کے کیے جاتے ہیں، جس کی قیمت عام شہریوں کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ حادثہ نہیں ہے بلکہ امریکی فوج کے ان خفیہ پروگراموں کی ایک کڑی ہے جو بغیر کسی عوامی نگرانی یا جوابدہی کے جاری ہیں۔
رپورٹ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ فوجی مشقوں کے دوران استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی شہری فضائی حدود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، تاہم حکام نے طویل عرصے تک اس معاملے کو راز میں رکھنے کی کوشش کی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس حادثے نے نہ صرف امریکی محکمہ دفاع کی سیکیورٹی پالیسیوں کی قلعی کھول دی ہے بلکہ اب یہ مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے کہ پینٹاگون کے ان خفیہ تجربات کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ عوام اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا قومی سلامتی کے نام پر شہریوں کی زندگیوں کو اس طرح داؤ پر لگایا جانا قانونی اور اخلاقی طور پر درست ہے؟
مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے شفافیت کا مطالبہ اب ایک اہم سیاسی بحث بن چکا ہے۔ کانگریس کے کچھ ارکان نے بھی اس معاملے پر بریفنگ طلب کر لی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ پینٹاگون کے کون سے خفیہ منصوبے شہری ہوا بازی کے راستوں میں مداخلت کر رہے ہیں۔ لیفٹیننٹ کرنل ڈیوس کے انکشافات نے اس بات پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ امریکی فوجی مشینری میں احتساب کا فقدان موجود ہے اور جب تک خفیہ تجربات کے طریقہ کار میں تبدیلی نہیں لائی جاتی، تب تک اس قسم کے حادثات کا خطرہ برقرار رہے گا۔