LIVE
Loading Breaking News...

کاروباری دنیا میں اے آئی کی ناکامی کی اصل وجوہات اور حل

News Image
کارپوریٹ دنیا میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے زیادہ تر پراجیکٹس تکنیکی ناکامی کے بجائے تنظیمی مسائل کی وجہ سے ناکام ہو رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عملی اطلاق اور نظریاتی بحث کے درمیان تضاد ہی کاروبار میں اے آئی کے فوائد حاصل نہ ہونے کی بڑی وجہ ہے۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) آج کے دور میں ہر بڑے کارپوریٹ ادارے کا خواب ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر ادارے اپنے اے آئی پائلٹ پروجیکٹس کو منافع بخش بنانے میں ناکام رہتے ہیں۔ ایم آئی ٹی (MIT) کی ایک تحقیق کے مطابق، تقریباً 95 فیصد اے آئی پروجیکٹس کمپنی کے منافع اور نقصان (P&L) پر کوئی مثبت اثر نہیں ڈال پاتے۔ اسی طرح، رینڈ کارپوریشن کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ 80 فیصد سے زائد ناکامیوں کی وجہ تکنیکی خرابی نہیں بلکہ تنظیمی ڈھانچہ اور انتظامی رویے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں جہاں 'اے آئی کرنے والے' (Doers) اور 'اے آئی کے نظریے پر بحث کرنے والے' (Theorists) کے درمیان ایک گہری خلیج موجود ہے۔ مسئلہ دراصل یہ ہے کہ بہت سے ادارے اے آئی کو ایک جادوئی چھڑی سمجھتے ہیں جو تکنیکی ماہرین کے ذریعے فوری نتائج دے گی، جبکہ درحقیقت کسٹمر ایکسپیرینس (CX) میں اے آئی کا استعمال ایک مکمل ثقافتی تبدیلی کا متقاضی ہے۔ نظریے کے حامی اکثر اے آئی کے اخلاقی پہلوؤں اور مستقبل کے طویل مدتی اثرات پر بحث کرتے رہتے ہیں، جبکہ زمینی سطح پر کام کرنے والے ماہرین کو روزمرہ کے کسٹمر ڈیٹا کو بہتر کرنے، ردعمل کے وقت کو کم کرنے اور ذاتی نوعیت کے تجربات فراہم کرنے کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جب تک یہ دونوں گروہ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہوں گے، تب تک اے آئی کی سرمایہ کاری کا درست پھل نہیں مل سکے گا۔ کاروباری کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اے آئی کے استعمال کو صرف ایک آئی ٹی کا مسئلہ نہ سمجھا جائے، بلکہ اسے کمپنی کی مجموعی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔ رینڈ کی تحقیق کے مطابق، جو ادارے اپنی تنظیمی ثقافت میں اے آئی کو ضم کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، وہی طویل المدتی فوائد حاصل کرتے ہیں۔ ناکامی کی سب سے بڑی وجہ اکثر یہ ہوتی ہے کہ ادارے اے آئی کو موجودہ غیر موثر عمل (processes) پر لاگو کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے وہی پرانی غلطیاں زیادہ تیزی سے دہرائی جاتی ہیں۔ آخر میں، اے آئی کا فائدہ اٹھانے کے لیے 'تھوری' اور 'پریکٹس' کے درمیان توازن قائم کرنا ناگزیر ہے۔ اداروں کو چاہیے کہ وہ چھوٹے اور عملی پائلٹ پروجیکٹس سے شروعات کریں جو فوری کسٹمر ویلیو فراہم کریں۔ جب تک اے آئی کو انسانوں کی فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کے متبادل کے بجائے ان کی معاون قوت کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا، تب تک اس ٹیکنالوجی کی افادیت محدود رہے گی۔ کسٹمر ایکسپیرینس میں حقیقی کامیابی ان اداروں کو ملے گی جو اے آئی کو ایک ٹیکنالوجی کے بجائے ایک کاروباری کلچر کے طور پر اپناتے ہیں۔