Health
نائیجیریا میں ڈاکٹروں کی قلت اور ٹیلی ہیلتھ کا کردار
ڈاکٹر فومی اڈیوارا نے نائیجیریا کے صحت کے بحران کو ختم کرنے کے لیے ٹیلی ہیلتھ ٹیکنالوجی کو اپنانے پر زور دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس جدید نظام کے ذریعے ملک بھر میں صحت کی عالمی کوریج کے اہداف کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔
نائیجیریا میں صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کو درپیش شدید چیلنجوں کے درمیان ماہرین نے ٹیلی ہیلتھ ٹیکنالوجی کو ایک انقلابی حل کے طور پر پیش کیا ہے۔ ملک میں ڈاکٹروں کی شدید کمی کے باعث مریضوں کو علاج معالجے کے حصول میں بڑی مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے صحت کا معیار مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔ نامور ماہر صحت ڈاکٹر فومی اڈیوارا نے حال ہی میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹیلی ہیلتھ کو اپنانا اب کوئی لگژری نہیں بلکہ وقت کی ضرورت ہے تاکہ نائیجیریا کے دیہی اور پسماندہ علاقوں تک طبی سہولیات کی رسائی ممکن بنائی جا سکے۔
ٹیلی ہیلتھ کا نظام نہ صرف فاصلوں کو ختم کرتا ہے بلکہ یہ ڈاکٹروں اور مریضوں کے درمیان ایک ایسا پل تعمیر کرتا ہے جہاں ٹیکنالوجی کے ذریعے فوری مشاورت ممکن ہے۔ ڈاکٹر فومی اڈیوارا کے مطابق، ٹیلی ہیلتھ کے استعمال سے نائیجیریا میں یونیورسل ہیلتھ کوریج کے اہداف کو حاصل کرنا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ جب دور دراز علاقوں میں رہنے والے مریض موبائل فون یا انٹرنیٹ کے ذریعے ماہر ڈاکٹروں سے مشورہ کر سکیں گے، تو مقامی ہسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بھی کم ہوگا اور بروقت تشخیص کی شرح میں بھی خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔
حکومتی سطح پر ٹیلی ہیلتھ کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری صحت کے شعبے میں نائیجیریا کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ اگرچہ ملک میں انٹرنیٹ کی رسائی اور بجلی کے مسائل اب بھی ایک چیلنج ہیں، لیکن ڈاکٹر اڈیوارا کا ماننا ہے کہ اگر نجی شعبے اور حکومت کے درمیان شراکت داری قائم کی جائے تو ان رکاوٹوں کو دور کیا جا سکتا ہے۔ ٹیلی ہیلتھ کے ذریعے نہ صرف ڈاکٹروں کی کمی کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ نظام طبی ماہرین کے ورک لوڈ کو بھی منظم کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جس سے مجموعی طور پر صحت کی دیکھ بھال کے نظام کی فعالیت میں بہتری آئے گی۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا درست استعمال مستقبل میں نائیجیریا کے صحت کے نظام کو خود کفیل بنا سکتا ہے۔ ٹیلی ہیلتھ کے ذریعے عام شہریوں کو سستی اور معیاری طبی مشاورت کی فراہمی نائیجیریا کی ترقی اور عوامی بہبود کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ ٹیلی میڈیسن سے متعلق پالیسیوں کو مزید بہتر بنائے تاکہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہر شہری کی صحت کو محفوظ بنایا جا سکے۔