LIVE
Loading Breaking News...

سرمایہ کاری میں خواتین کی کامیابی کی وجوہات

News Image
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین سرمایہ کاری کے دوران زیادہ محتاط اور خطرات سے آگاہ ہوتی ہیں جس کے باعث وہ طویل مدتی نتائج میں مردوں سے آگے نکل جاتی ہیں۔ سرمایہ کاری کے شعبے میں خواتین کا یہ پرسکون رویہ انہیں نقصان سے بچانے اور منافع کو مستحکم رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
موجودہ دور میں جب مالیاتی منڈیاں تیزی سے بدل رہی ہیں، ایک دلچسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ خواتین سرمایہ کار، مردوں کے مقابلے میں زیادہ بہتر اور مستحکم نتائج حاصل کر رہی ہیں۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، اس کی بنیادی وجہ خواتین کا سرمایہ کاری کے بارے میں محتاط رویہ ہے۔ اکثر تنقید کی جاتی ہے کہ خواتین خطرات مول لینے سے گریز کرتی ہیں، لیکن حقیقت میں وہ 'رسک ایڈورس' (خطرات سے بچنے والی) ہونے کے بجائے 'رسک اویئر' (خطرات سے آگاہ) ہوتی ہیں۔ وہ کسی بھی قدم کو اٹھانے سے پہلے مکمل تحقیق کرتی ہیں اور جذبات میں آکر فیصلے کرنے کے بجائے منطقی بنیادوں پر اپنی رقم کی سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین سرمایہ کاروں کی کامیابی کا راز ان کا نظم و ضبط ہے۔ بہت سی خواتین اپنے سرمایہ کاری کے سفر کا آغاز جوانی کی دہائیوں میں ہی کر لیتی ہیں اور مستقل مزاجی کے ساتھ چھوٹے پیمانے سے بڑی رقم تک پہنچ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر، ایک خاتون سرمایہ کار نے اپنی جوانی میں صرف چند ہزار پاؤنڈ سے آغاز کیا اور اپنی سمجھ بوجھ اور صبر کے ذریعے اسے 8,000 پاؤنڈ تک پہنچایا۔ یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ سرمایہ کاری کوئی جوئے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک سوچا سمجھا طویل مدتی منصوبہ ہے جس میں صبر کا پھل ملتا ہے۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین میں ایک خاص بات یہ دیکھی گئی ہے کہ وہ اپنے پورٹ فولیو کو بار بار تبدیل نہیں کرتیں۔ مرد اکثر مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر فوری ردعمل دیتے ہیں اور اسٹاکس خریدتے یا بیچتے ہیں، جس سے اکثر نقصان ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، خواتین اپنی حکمت عملی پر قائم رہتی ہیں اور مارکیٹ کے عارضی دباؤ کا شکار نہیں ہوتیں۔ یہی وہ پرسکون رویہ ہے جو انہیں طویل مدت میں منافع بخش ثابت کرتا ہے۔ خواتین کا یہ انداز سرمایہ کاری نہ صرف ان کی ذاتی مالیاتی آزادی کو یقینی بناتا ہے بلکہ گھریلو معیشت کو بھی مستحکم کرتا ہے۔ آخر میں، یہ کہنا درست ہوگا کہ سرمایہ کاری کی دنیا میں کامیابی کا انحصار زیادہ رقم ہونے پر نہیں بلکہ صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنے پر ہے۔ خواتین کا یہ غیر جذباتی اور محتاط رویہ اب مالیاتی اداروں کے لیے بھی ایک مثال بن چکا ہے۔ آنے والے وقتوں میں، سرمایہ کاری کے میدان میں خواتین کا کردار مزید نمایاں ہوگا کیونکہ ان کی مالیاتی دانشمندی اور مستقل مزاجی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ معاشی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔