World
ملائیشیا پولیس کا اقدام: اقوام متحدہ کی مدد کے منتظر 100 روہنگیا گرفتار
ملائیشیا کی پولیس نے اقوام متحدہ کے دفتر سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے ایک سو سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشیوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ اس کارروائی نے خطے میں روہنگیا پناہ گزینوں کے انسانی حقوق اور ان کو درپیش سنگین مشکلات پر ایک بار پھر بین الاقوامی توجہ مبذول کروا دی ہے۔
ملائیشیا کے حکام نے ایک بڑی کارروائی کے دوران ایک سو سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کو حراست میں لے لیا ہے جو مبینہ طور پر اقوام متحدہ کے دفاتر سے مدد اور تحفظ حاصل کرنے کی غرض سے جمع ہوئے تھے۔ یہ پناہ گزین طویل عرصے سے خطے میں امتیازی سلوک اور نامساعد حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور اپنے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں مبتلا ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق، گرفتار کیے جانے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جنہیں تفتیش کے لیے متعلقہ حراستی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے۔ ملائیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ پچھلے کئی سالوں سے جاری ہے، تاہم ملک میں باضابطہ پناہ گزینوں کا درجہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اکثر غیر قانونی تارکینِ وطن تصور کیا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے ملائیشیا کی حکومت کی جانب سے روہنگیا پناہ گزینوں کی اس طرح کی گرفتاریوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ پناہ کے متلاشی افراد کو اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) تک رسائی سے روکنا اور انہیں حراست میں لینا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ ملائیشیا کی حکومت ان پناہ گزینوں کے ساتھ انسانی ہمدردی کا سلوک کرے اور انہیں تحفظ فراہم کرے۔ دوسری جانب، ملائیشیا کے حکام کا مؤقف ہے کہ وہ ملکی قوانین اور سکیورٹی خدپیش کے تحت غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف کارروائیاں کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس تازہ واقعے کے بعد دنیا بھر میں روہنگیا بحران کے ایک بار پھر حل طلب ہونے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے، کیونکہ میانمار میں جاری تشدد اور ناانصافیوں کی وجہ سے لاکھوں روہنگیا باشندے جان بچا کر پڑوسی ممالک کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔