Pakistan
لاہور ٹاؤن شپ پولیس تحویل میں اموات، سی سی پی او کا بیان اور جوڈیشل انکوائری
لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں پولیس حراست میں دو خواتین کی پراسرار اموات کے بعد سی سی پی او لاہور نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں تشدد کا کوئی نشان نہیں ملا۔ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
لاہور کے علاقے ٹاؤن شپ میں پولیس تحویل میں دو خواتین کی پراسرار اموات کے معاملے پر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا گیا ہے۔ سی سی پی او لاہور نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹس میں دونوں خواتین کے جسم پر تشدد کا کوئی بھی نشان نہیں پایا گیا ہے۔ اس کے باوجود واقعے کی تمام زاویوں سے شفاف اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جا رہا ہے تاکہ اصل حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں۔
یاد رہے کہ اس واقعے کے بعد عوامی حلقوں اور میڈیا میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی، جس کے پیش نظر حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا عزم ہے کہ اگر تحقیقات میں کسی بھی سطح پر غفلت یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دونوں خواتین مشکوک حالات میں انتقال کر گئی تھیں، جنہیں تحویل میں لیا گیا تھا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ وہ قانون کے مطابق مکمل شفافیت کے ساتھ اس کیس کی تفتیش کر رہے ہیں اور پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹس آنے کے بعد مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔ علاقائی انتظامیہ نے شہریوں سے پرامن رہنے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کی اپیل کی ہے۔