World
چین میں طوفان ڈولفن کی تباہ کاری، ایک ملین افراد کا انخلاء
چین میں طوفان ڈولفن کے باعث شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے، جس کے پیش نظر حکام نے ایک ملین سے زائد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔ بیجنگ میں آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سالانہ بارش کا ایک تہائی حصہ برسنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
چین میں آنے والے شدید سمندری طوفان ڈولفن نے ملک کے مختلف حصوں بالخصوص ساحلی اور نش نشینی علاقوں میں شدید تباہی مچا دی ہے۔ طوفان کے باعث ہونے والی موسلادھار بارشوں، طوفانی ہواؤں اور لینڈ سلائیڈنگ نے معمولاتِ زندگی کو معطل کر کے رکھ دیا ہے۔ صورتحال کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے چینی حکام نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائیاں شروع کر دی ہیں اور متاثرہ علاقوں سے ایک ملین سے زائد افراد کا محفوظ مقامات پر انخلاء مکمل کر لیا گیا ہے۔ حکومتی اداروں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
دارالحکومت بیجنگ میں بھی شدید خطرے کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جہاں محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شہر میں سالانہ اوسط بارش کا ایک تہائی حصہ برسنے کا امکان ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے جبکہ تعلیمی اداروں اور دفاتر کو بھی ممکنہ خطرات کے پیش نظر بند یا محدود کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بیجنگ کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے سے روکنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی بڑے جانی یا مالی نقصان سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب شنگھائی اور دیگر متاثرہ شہروں میں بھی طوفان کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں جہاں اربن فلڈنگ نے سڑکوں کو دریاؤں میں بدل دیا ہے۔ نکاسی آب کو بہتر بنانے کے لیے جدید مشینری اور ڈرینج روبوٹس کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ زیرِ زمین راستوں اور انڈر پاسز سے پانی کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔ چین کے اقتصادی حلقوں اور ماہرین کے مطابق اس قدرتی آفت سے بنیادی ڈھانچے کو کافی نقصان پہنچا ہے جس کے ازالے کے لیے طوفان کے تھمنے کے فورا بعد بحالی کے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کیے جائیں گے۔