LIVE
Loading Breaking News...

خام تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ ایران اور عالمی مارکیٹ کا تجزیہ

News Image
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان برقرار ہے جس کی بنیادی وجہ ایران کے ساتھ جاری تناؤ اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی سپلائی چین متاثر ہو سکتی ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر تیزی دیکھی جا رہی ہے جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق خام تیل کی قیمتیں 83 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گئی ہیں، اور سرمایہ کاروں میں اس بات کا خوف پایا جاتا ہے کہ اگر خطے میں جاری تناؤ برقرار رہا تو عالمی توانائی کی سپلائی چین بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایران کے حالیہ بیانات نے عالمی منڈیوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جہاں ایران کا کہنا ہے کہ جب تک ان کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں، تب تک آبنائے ہرمز کے معاملات معمول پر آنا مشکل ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور بینک آف امریکہ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی نقل و حمل کے لیے سب سے اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا کشیدگی تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ اگر صورتحال کو مستحکم کرنا ہے تو اس گزرگاہ کی حفاظت اور سپلائی کو برقرار رکھنے کے لیے موجودہ تعداد سے کہیں زیادہ بحری جہازوں کی موجودگی کی ضرورت ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف عالمی منڈی میں اسٹاکس کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ مہنگائی کے دباؤ کو بھی بڑھا رہی ہیں جس سے دنیا بھر کے سرمایہ کار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں بھی ہلچل دیکھنے میں آ رہی ہے جہاں 'کور ویو' (CoreWeave) جیسے ادارے تیزی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، تاہم مارکیٹ کی مجموعی توجہ توانائی کے شعبے پر مرکوز ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدوں کے حوالے سے ابہام کے باعث خدشات مزید گہرے ہو رہے ہیں کہ تیل کی ترسیل کے راستے بند ہونے سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کی جانب سے سفارتی کوششیں انتہائی اہمیت اختیار کر گئی ہیں، کیونکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا تنازعہ نہ صرف تیل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا سکتا ہے بلکہ عالمی تجارتی راستوں کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکی حکومت کے ردعمل اور خطے میں ہونے والی نقل و حرکت پر مرکوز ہیں۔