LIVE
Loading Breaking News...

عالمی معیشت: قدرتی آفات کے نقصانات میں نمایاں کمی

News Image
مشہور عالمی ری انشورنس کمپنی سوئس ری کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران قدرتی آفات کے نتیجے میں ہونے والے مجموعی معاشی نقصانات 100 ارب ڈالر رہے۔ انشورنس کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ کم سطح کے نقصانات موسمیاتی خطرات کے حوالے سے غفلت برتنے کا جواز نہیں بن سکتے۔
عالمی سطح پر کام کرنے والی معروف ری انشورنس کمپنی 'سوئس ری' (Swiss Re) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران دنیا بھر میں قدرتی آفات کے باعث ہونے والے معاشی نقصانات 100 ارب ڈالر کی سطح تک محدود رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک خوش آئند رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، تاہم ماہرین نے اس پر محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، انشورنس کے حامل نقصانات کا تخمینہ 42 ارب ڈالر لگایا گیا ہے جو کہ گزشتہ چھ سالوں میں ریکارڈ کی گئی کم ترین سطح ہے۔ اگرچہ معاشی نقصانات میں کمی واقع ہوئی ہے، لیکن سوئس ری اور دیگر انشورنس اداروں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ ان اعداد و شمار کو موسمیاتی خطرات کے خاتمے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کم سطح کے نقصانات صرف ایک وقتی رجحان ہو سکتے ہیں، جبکہ طویل مدتی موسمیاتی تبدیلیاں اور شدید طوفانوں کی بڑھتی ہوئی شدت آنے والے برسوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں۔ عالمی سطح پر انشورنس کمپنیوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رسک مینجمنٹ ماڈلز کو موجودہ مستحکم صورتحال کی بنیاد پر نرم نہ کریں کیونکہ مستقبل میں غیر متوقع موسمیاتی واقعات کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، انشورنس سیکٹر کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مستقبل کے چیلنجوں کے لیے پہلے سے زیادہ تیاری رکھے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک دونوں ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے براہ راست اثرات کی زد میں ہیں۔ اگرچہ رواں سال کا پہلا نصف نسبتاً محفوظ رہا ہے، لیکن عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث سمندری طوفانوں اور سیلاب جیسے واقعات کی فریکوئنسی میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ سوئس ری کی یہ رپورٹ عالمی مالیاتی اداروں کے لیے ایک انتباہ ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے سخت اور پیچیدہ تقاضوں سے ہم آہنگ کریں تاکہ کسی بھی بڑے بحران کی صورت میں معاشی استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔