World
شمالی کوریا کا میزائل تجربہ: خطے میں کشیدگی میں اضافہ
شمالی کوریا نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دوسری بار بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ یہ اقدام جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے سالانہ فوجی مشقوں کے انعقاد کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
پیانگ یانگ نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں اپنی دوسری بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب جنوبی کوریا اور امریکہ اپنی سالانہ مشترکہ فوجی مشقوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے اس اشتعال انگیز اقدام کو خطے میں سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں انتہائی تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ میزائل تجربہ شمالی کوریا کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت اور اس کے جارحانہ عزائم کا واضح ثبوت ہے۔
دوسری جانب سیول اور واشنگٹن نے ان فوجی مشقوں کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے، تاہم پیانگ یانگ اسے اپنے خلاف جارحیت کی مشق سمجھتا ہے۔ شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی یہ مشترکہ کارروائیاں خطے کے استحکام کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور وہ اپنے دفاع کے لیے ہر قسم کے ہتھیار استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس کشیدگی کی وجہ سے جزیرہ نما کوریا میں ایک بار پھر جنگی ماحول کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے جس پر عالمی طاقتیں بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے میزائلوں کے مسلسل تجربات کا مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کریں۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران شمالی کوریا نے اپنے جوہری اور میزائل پروگرام میں تیزی لائی ہے، جس کے باعث اقوام متحدہ نے اس پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ تاہم پیانگ یانگ کی جانب سے عالمی دباؤ کے باوجود ہتھیاروں کی تیاری جاری رکھنے کا فیصلہ خطے میں مزید بحران کا باعث بن رہا ہے۔
مستقبل قریب میں مزید فوجی مشقوں کے اعلان کے بعد حالات مزید پیچیدہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ بین الاقوامی برادری فریقین پر زور دے رہی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ خطے کو کسی بھی بڑے تنازعے سے بچایا جا سکے۔ فی الحال، نہ تو شمالی کوریا اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہے اور نہ ہی امریکہ اور اس کے اتحادی اپنی دفاعی حکمت عملی میں کسی قسم کی تبدیلی لانے پر آمادہ ہیں۔