Politics
ٹرمپ کا مشی گن جلسہ، مظاہرین کو کمیونسٹ کہنے پر ہنگامہ
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشی گن میں آٹوموٹو تقریب کے دوران ایک مظاہرین کی جانب سے خلل ڈالا گیا۔ ٹرمپ نے خطاب کے دوران رکاوٹ بننے والے اس شخص کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کمیونسٹ قرار دیا۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مشی گن میں منعقدہ ایک اہم آٹوموٹو تقریب اس وقت ہنگامہ خیز ہو گئی جب ایک احتجاجی شخص نے ان کے خطاب کے دوران نعرے بازی شروع کر دی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیج پر معیشت اور صنعتی پالیسیوں کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ نعرے بازی شروع ہوتے ہی سیکیورٹی اہلکاروں نے فوراً حرکت میں آتے ہوئے مداخلت کی اور اس مظاہرین کو زبردستی ہال سے باہر نکال دیا۔ اس اچانک واقعے نے تقریب کے ماحول کو گرما دیا اور حاضرین کی توجہ بھی مبذول کر لی۔ سیکیورٹی کے عملے نے انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچایا اور اس شخص کو فوری طور پر احاطے سے باہر منتقل کر دیا۔ اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا غصہ چھپائے بغیر اس مظاہرین پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے مائیکروفون پر بولتے ہوئے اس شخص کو 'کمیونسٹ' قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی بدمعاشی اور خلل اندازی ان کے جلسوں کو روک نہیں سکتی۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ہال میں موجود ان کے حامیوں نے نعرے بازی شروع کر دی اور سابق صدر کے حق میں نعرے بلند کیے۔ تقریب میں موجود سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی مہم اور سیاسی تقریبات میں اس طرح کے پُرجوش مظاہرے اب معمول بن چکے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے امیدوار پہلے سے تیار رہتے ہیں۔ اس پورے واقعے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کسی بڑے وقفے کے اپنی تقریر کا سلسلہ وہیں سے دوبارہ شروع کر دیا جہاں اسے روکا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی پالیسیوں اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی جبکہ اس ناخوشگوار واقعے کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے اپنے روایتی انداز میں مخالفین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ مشی گن کا یہ واقعہ سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا پر بھی زیر بحث آ گیا ہے جہاں مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے اس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔