World
باب المندب میں حوثی ملیشیا کا حملہ، کارگو شپ کو شدید نقصان
بحیرہ احمر کے قریب باب المندب کے مقام پر ایک مصری ملکیتی مال بردار بحری جہاز پر مشتبہ حوثی حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کی فوٹیج میں جہاز کو شدید نقصان پہنچنے اور بلند شعلے اٹھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
بحیرہ احمر کے اہم ترین گزرگاہ باب المندب کے قریب ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے، جہاں ایک مصری ملکیتی مال بردار بحری جہاز پر مشتبہ حوثی حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ حملہ اس وقت ہوا جب جہاز اپنی معمول کی تجارتی روٹ سے گزر رہا تھا۔ حملے کے بعد کی جاری کردہ فوٹیج میں جہاز کے اوپر سے گہرے دھوئیں کے بادل اور بلند شعلے اٹھتے ہوئے واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، جس سے جہاز کو پہنچنے والے شدید نقصان کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ یہ علاقہ بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی حساس مانا جاتا ہے، اور حالیہ دنوں میں یہاں جہاز رانی کی نقل و حرکت کافی غیر محفوظ ہو چکی ہے۔
اس واقعے کے بعد بحری سیکیورٹی کے حلقوں میں سخت تشویش پائی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اس طرح کے حملے نہ صرف بین الاقوامی سمندری تجارت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں بلکہ اس سے عالمی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ باب المندب آبنائے عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، اور یہاں پیش آنے والے ایسے واقعات سے تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ متعلقہ حکام نے تاحال جہاز پر سوار عملے کی حفاظت اور ان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم امدادی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔
عالمی طاقتیں اور بحری اتحاد اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ خطہ پہلے ہی کئی ماہ سے حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے بحیرہ احمر اور اس سے منسلک آبی راستوں پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے مسلسل ان حملوں کی مذمت کی جا رہی ہے اور جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے فوجی گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود حوثی ملیشیا اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے اس حساس سمندری راستے پر سفری خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔