LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کے سابق جرنیلوں کا ٹرمپ کو خط، آباد کاروں کے تشدد پر تشویش

News Image
اسرائیل کے پانچ سو پچاس سابق فوجی حکام نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی تشدد آمیز کارروائیاں خود اسرائیل کے مستقبل کے لیے شدید خطرہ ہیں۔
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسرائیل کے پانچ سو پچاس سابق اعلیٰ فوجی حکام، جرنیلوں اور سکیورٹی ماہرین کی جانب سے ایک اہم خط ارسال کیا گیا ہے۔ اس خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں تاکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکا جا سکے۔ سابق عسکری حکام کا کہنا ہے کہ یہ پرتشدد کارروائیاں نہ صرف خطے کے امن کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ یہ خود ریاستِ اسرائیل کے طویل المدتی مستقبل اور سلامتی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔ خط میں اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں جاری قانون شکنی اور شدت پسندی بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کی پوزیشن کو کمزور کر رہی ہے۔ سابق جرنیلوں کا مؤقف ہے کہ اگر اس صورتحال پر فوری طور پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے انتہائی خطرناک اسٹریٹجک نتائج برآمد ہوں گے۔ انہوں نے امریکی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے میں خاموشی توڑتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو اس بات کا پابند بنائے کہ وہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنائے اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ اس خط کی سیاسی اور عسکری حلقوں میں گونج سنائی دے رہی ہے اور اسے اسرائیل کے اندر سے ہی حکومتی پالیسیوں پر ایک بڑا اور معنی خیز تنقیدی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔