LIVE
Loading Breaking News...

ہوابازی کے لیویز اور نایما: اسٹیک ہولڈرز کی رائے میں تقسیم

News Image
نائیجیرین ایئر اسپیس مینجمنٹ ایجنسی (نایما) کے ہوابازی لیویز میں اضافے کے معاملے پر اسٹیک ہولڈرز دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ جہاں کچھ حلقے فضائی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مزید فنڈنگ کے حامی ہیں، وہیں دیگر فریقین کارکردگی میں بہتری کو بنیادی شرط قرار دے رہے ہیں۔
نائیجیریا کے ہوابازی کے شعبے میں نائیجیرین ایئر اسپیس مینجمنٹ ایجنسی (نایما) کے لیویز میں حصے کے تعین پر اسٹیک ہولڈرز کے درمیان گہری تقسیم پیدا ہو گئی ہے۔ یہ تنازعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایوی ایشن انڈسٹری اپنے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایک جانب نایما کے حامیوں کا موقف ہے کہ فضائی حدود کی حفاظت اور نیویگیشن کے جدید نظام کو فعال رکھنے کے لیے فنڈز میں اضافہ ناگزیر ہے، تاکہ بین الاقوامی معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس گروہ کا ماننا ہے کہ اگر لیویز میں اضافہ نہیں کیا گیا تو فضائی حادثات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور ٹیکنالوجی کی اپ گریڈیشن متاثر ہوگی۔ دوسری جانب، ایئر لائن آپریٹرز اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اس اضافے کے حق میں دکھائی نہیں دیتے۔ ان کا کہنا ہے کہ لیویز میں اضافے سے پہلے ایجنسی کو اپنی اندرونی کارکردگی اور انتظامی امور میں شفافیت لانی ہوگی۔ ناقدین کا یہ استدلال ہے کہ صرف فنڈز فراہم کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے جب تک کہ موجودہ وسائل کا درست استعمال یقینی نہ بنایا جائے۔ ایئر لائنز کا مطالبہ ہے کہ آپریٹنگ اخراجات پہلے ہی آسمان سے باتیں کر رہے ہیں، اور ایسے میں اضافی بوجھ ایوی ایشن سیکٹر کی کمر توڑ دے گا، جس سے ٹکٹوں کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور عام مسافر متاثر ہوگا۔ اس بحث کے دو اہم پہلو ہیں؛ ایک طرف تکنیکی ترقی اور انسانی جانوں کا تحفظ ہے، جبکہ دوسری طرف معاشی استحکام اور انتظامی احتساب کا تقاضا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے جہاں حفاظت اور مالیاتی خود مختاری کے درمیان توازن برقرار رہے۔ اگرچہ ایوی ایشن حکام کا دعویٰ ہے کہ نایما کو اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے اضافی سرمائے کی ضرورت ہے، لیکن اسٹیک ہولڈرز کا ایک بڑا طبقہ اس بات پر مصر ہے کہ جب تک ایجنسی اپنی سروس ڈیلیوری کو بہتر نہیں کرتی، تب تک لیویز میں اضافے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر وزارتِ ہوابازی اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مزید مذاکرات کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار کیا جا سکے۔