Business
نائیجیریا لائیو سٹاک معیشت کو دوگنا کرنے کے لیے پرعزم
نائیجیریا کی حکومت نے ملک میں لائیو سٹاک کے شعبے کو وسعت دینے اور اس کی موجودہ 32 ارب ڈالر کی معاشی شراکت کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد افریقہ میں نائیجیریا کو لائیو سٹاک پیداوار کا ایک بڑا مرکز بنانا ہے۔
نائیجیریا کی وفاقی حکومت نے ملک کی معیشت میں لائیو سٹاک کے شعبے کے کردار کو نمایاں طور پر بڑھانے کے لیے ایک اہم اور تزویراتی منصوبہ تشکیل دیا ہے۔ موجودہ اعداد و شمار کے مطابق، لائیو سٹاک کا شعبہ ملکی معیشت میں 32 ارب ڈالر کا حصہ ڈال رہا ہے، تاہم حکومت نے اس شراکت کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس حکومتی اقدام کا بنیادی مقصد نہ صرف ملک میں گوشت اور دودھ کی پیداوار کو بڑھانا ہے بلکہ نائیجیریا کو افریقی براعظم میں لائیو سٹاک کی پیداوار اور برآمد کے لیے ایک مرکزی حیثیت دلانا ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بہتر انتظام و انصرام پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ لائیو سٹاک کے شعبے میں سرمایہ کاری سے نہ صرف جی ڈی پی میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ حکومت اس شعبے میں نجی شعبے کی شرکت کو بھی فروغ دے رہی ہے تاکہ فارمنگ کے جدید طریقوں کو اپنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ مویشیوں کی بیماریوں کے خاتمے اور ویکسینیشن کے عمل کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ پالیسی نائیجیریا کی خوراک کی خود کفالت اور برآمدات کو بڑھانے کی طویل مدتی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق، لائیو سٹاک سیکٹر میں موجود پوٹینشل کا بھرپور استعمال کرکے نائیجیریا نہ صرف اپنی داخلی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ خطے کے دیگر ممالک کو بھی مصنوعات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سیکٹر میں اصلاحات کے ذریعے مویشی پالنے والوں کی آمدنی میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس سے دیہی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ آنے والے برسوں میں اس منصوبے کی کامیابی نائیجیریا کو افریقہ کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں مزید مستحکم مقام دلا سکتی ہے۔