Technology
نیورو ٹیکنالوجی اور دماغی ڈیٹا کا تحفظ: کیلیفورنیا کا اہم قدم
کیلیفورنیا کی جانب سے انسانی دماغی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے نئے قوانین متعارف کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد جدید نیورو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے صارف کے اعصابی ڈیٹا کے غلط استعمال کو روکنا ہے۔
کیلیفورنیا کی ریاست نے انسانی دماغی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے ایک اہم پیش قدمی کرتے ہوئے نیورو ٹیکنالوجی کے شعبے کو باقاعدہ ضوابط کے تحت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جدید برین سینسرز اور امپلانٹس جیسی ٹیکنالوجیز تیزی سے عام ہو رہی ہیں، جن کی مدد سے لوگ بغیر جسمانی حرکت کیے کمپیوٹر، روبوٹس اور وہیل چیئرز کو کنٹرول کرنے کے قابل ہو رہے ہیں۔ تاہم، ماہرین اور قانون سازوں کو خدشہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے حاصل کردہ حساس اعصابی ڈیٹا کا غلط استعمال انسانی نجی زندگی کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتا ہے۔
نئے مجوزہ قوانین کے تحت نیورو ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنیوں پر لازم ہوگا کہ وہ صارفین کے دماغی ڈیٹا کو جمع کرنے اور اس کے استعمال کے حوالے سے شفافیت کو برقرار رکھیں۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ جس طرح جی پی ایس یا سوشل میڈیا ڈیٹا محفوظ ہونا ضروری ہے، اسی طرح انسانی دماغ کی برقی لہروں سے حاصل کردہ معلومات پر بھی اسی طرح کے یا اس سے زیادہ سخت تحفظات لاگو ہونے چاہئیں۔ یہ قانون سازی خاص طور پر ان کارپوریٹ اداروں کے لیے ایک چیلنج ثابت ہو سکتی ہے جو اپنے ملازمین کی پیداواری صلاحیت جانچنے کے لیے ان کے دماغی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔
اس قانون کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اگر انسانی سوچ اور اعصابی سرگرمیوں کے ڈیٹا کو ضوابط کے تابع نہ کیا گیا تو مستقبل میں انسانی آزادی اور پرائیویسی کا تصور ختم ہو سکتا ہے۔ کیلیفورنیا، جو پہلے ہی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ریگولیشنز متعارف کروانے میں پیش پیش رہا ہے، اب اس نئے میدان میں ایک معیار قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس پیش رفت پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں کچھ کمپنیاں اسے جدت کی راہ میں رکاوٹ قرار دے رہی ہیں، وہیں انسانی حقوق کے کارکن اسے ایک لازمی اور بروقت قدم قرار دیتے ہیں۔
حتمی طور پر، یہ قانون سازی نہ صرف کیلیفورنیا بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک ماڈل ثابت ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے نیورو ٹیک کی مصنوعات مارکیٹ میں مقبول ہو رہی ہیں، صارفین کے تحفظ کے لیے ایسے قانونی ڈھانچے کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔ حکومت کا ہدف یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور پرائیویسی کا توازن برقرار رکھا جا سکے تاکہ کسی بھی فرد کے دماغی ڈیٹا کا غیر قانونی تجارتی استعمال نہ ہو سکے۔