Business
ٹرمپ میڈیا کا مالی نقصان: 238 ملین ڈالر کا خسارہ اور کرپٹو کرنسی کے خطرات
ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی نے اپریل سے جون کے دوران 238 ملین ڈالر کا بڑا مالی خسارہ ظاہر کیا ہے۔ کمپنی اپنے مرکزی میڈیا پلیٹ فارم سے ہٹ کر کرپٹو کرنسی جیسے غیر متعلقہ شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیتی سوشل میڈیا کمپنی، 'ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ' نے رواں برس کی دوسری سہ ماہی کے دوران 238 ملین ڈالر (تقریباً 176 ملین برطانوی پاؤنڈ) کا بھاری مالی نقصان ریکارڈ کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ مالیاتی رپورٹس کے مطابق یہ خسارہ اپریل سے جون کے درمیانی عرصے میں سامنے آیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کمپنی کے مرکزی سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' کی کارکردگی کے علاوہ دیگر غیر متعلقہ شعبوں میں سرمایہ کاری کے فیصلے کمپنی کے مالی استحکام کے لیے چیلنج بن گئے ہیں۔
کمپنی کے مالیاتی گوشواروں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے اپنے دائرہ کار کو بڑھانے کی کوششیں اب تک مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی ہیں۔ ٹرمپ میڈیا نے خاص طور پر کرپٹو کرنسی اور ڈیجیٹل اثاثوں کی صنعت میں قدم رکھنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد سے کمپنی کے مالیاتی دباؤ میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال نے کمپنی کے مجموعی منافع پر براہِ راست منفی اثر ڈالا ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
اس کے علاوہ، کمپنی کے اخراجات میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ بھی خسارے کی ایک اہم وجہ ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے نئی ٹیکنالوجیز اور مختلف کاروباری منصوبوں پر کیے گئے اخراجات نے کمپنی کی نقد رقم کے ذخائر کو تیزی سے کم کیا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ میڈیا کے حکام کی جانب سے مستقبل کے حوالے سے پرامید بیانات سامنے آئے ہیں، تاہم مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک کمپنی اپنے بنیادی کاروبار کو مستحکم نہیں کرتی اور غیر متعلقہ منصوبوں میں ہونے والے اخراجات کو کنٹرول نہیں کرتی، تب تک مالی بحران سے نکلنا ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔
دوسری جانب، اسٹاک مارکیٹ میں کمپنی کے حصص کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کار اب محتاط انداز اپنا رہے ہیں کیونکہ کمپنی کی آمدنی اور منافع کے درمیان موجود خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ آنے والے مہینوں میں ٹرمپ میڈیا کی انتظامیہ کو اپنی کاروباری حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی ہوگی تاکہ کمپنی کو دیوالیہ پن جیسے خطرات سے بچایا جا سکے اور حصص یافتگان کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔