Pakistan
مذہبی امتیاز کا خاتمہ اور اقلیتوں کے تحفظ کا مطالبہ
مختلف طبقات اور سول سوسائٹی کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خاتمے اور اقلیتوں کے مکمل تحفظ کے لیے آواز بلند کی گئی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ آئینِ پاکستان کے تحت تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں جن کا نفاذ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
ملک بھر میں سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں کی جانب سے مذہب کی بنیاد پر ہونے والے امتیازی سلوک کے خاتمے اور اقلیتوں کے مکمل تحفظ کے لیے پرزور مطالبات کیے جا رہے ہیں۔ حال ہی میں مختلف اخبارات اور فورمز پر شائع ہونے والی رپورٹس میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کو بلا امتیازِ مذہب و ملت یکساں تحفظ اور حقوق فراہم کرے۔ اس حوالے سے زبردستی مذہب کی تبدیلی (forced conversions) جیسے سنگین مسائل کے خلاف بھی آواز اٹھائی جا رہی ہے تاکہ معاشرے میں انصاف اور برابری کی فضا قائم کی جا سکے۔ حکومتی حلقوں اور سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اسلامی تعلیمات بھی اقلیتوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کا درس دیتی ہیں، اور ریاست اس ضمن میں اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ صوبائی سطح پر بھی مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مختلف اقدامات زیر غور ہیں تاکہ سندھ سمیت ملک کے تمام حصوں میں رواداری اور بھائی چارے کی تاریخی روایت کو برقرار رکھا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ قانون کی بالادستی اور مساوی مواقع فراہم کیے بغیر ایک مستحکم اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے۔