LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کے بڑے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کا عمل شروع

News Image
حکومت نے کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کو نجی شعبے کے تعاون سے چلانے کے لیے مالیاتی مشیر کی خدمات حاصل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایئرپورٹس کے انتظامی امور کو جدید بنانا اور مسافروں کو بین الاقوامی معیار کی سہولیات فراہم کرنا ہے۔
حکومت پاکستان نے ملکی ہوا بازی کے شعبے میں اصلاحات کے ایک اہم مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے انتظامی امور کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پرائیوٹائزیشن کمیشن کے حالیہ اجلاس میں ایک مالیاتی مشیر کی تقرری کی منظوری دے دی گئی ہے جو ان ہوائی اڈوں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے عمل کی نگرانی کرے گا۔ یہ فیصلہ ملکی معیشت کو مستحکم کرنے اور سرکاری اداروں کے مالی بوجھ کو کم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔ پرائیوٹائزیشن کمیشن کے حکام کے مطابق، اس منصوبے کا بنیادی مقصد ایئرپورٹس پر مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کو عالمی معیار کے مطابق بنانا اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنانا ہے۔ آؤٹ سورسنگ کے بعد نجی آپریٹرز کے ذریعے انتظامی امور کی بہتری سے نہ صرف آپریشنل اخراجات کم ہوں گے بلکہ ہوائی اڈوں کی آمدنی میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ نجی شعبے کی شمولیت سے مسافروں کے لیے سفر کا تجربہ مزید سہل اور محفوظ ہو جائے گا، کیونکہ پرائیویٹ آپریٹرز جدید مینجمنٹ اور تکنیکی مہارت لانے کے پابند ہوں گے۔ واضح رہے کہ اس عمل کے ساتھ ساتھ حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (DISCOs) کی نجکاری اور ان کی تقسیم کے امور پر بھی کام کر رہی ہے۔ لیسکو (LESCO) اور میپکو (MEPCO) جیسے اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور انہیں تقسیم کرنے کے معاملات بھی زیر غور ہیں۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ سرکاری اداروں کو خسارے سے نکال کر انہیں منافع بخش بنایا جا سکے۔ حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس پورے عمل میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا تاکہ ملکی اثاثوں کا بہترین استعمال ممکن ہو۔ آؤٹ سورسنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بھی سول ایوی ایشن اتھارٹی ریگولیٹری کردار ادا کرتی رہے گی، جس سے یہ یقینی بنایا جائے گا کہ نجی آپریٹرز طے شدہ اصولوں اور عالمی معیار کی پابندی کریں۔ اس منصوبے کی کامیابی پر حکومت دیگر چھوٹے ایئرپورٹس کے لیے بھی اسی طرح کے ماڈل پر غور کرے گی۔