Politics
پاکستان ایران تعلقات اور آبنائے ہرمز پر کشیدگی، محسن نقوی کا تہران کا اہم دورہ
پاکستان کے وفاقی وزیر محسن نقوی نے تہران کا دورہ کیا تاکہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ایران نے اپنے سیکیورٹی خدشات اور آبنائے ہرمز سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم رہنے کا اعادہ کیا ہے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حال ہی میں تہران کا ایک انتہائی اہم دورہ کیا ہے جس کا مقصد خطے میں جاری بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کرنا ہے۔ اس دورے کے دوران ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا بنیادی محور آبنائے ہرمز کی صورتحال اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاکستان کا کردار رہا ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کے لیے ایک ثالث کا کردار ادا کرنے کی خواہش مند ہے تاکہ خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔
ملاقاتوں کے دوران ایران نے اپنے سیکیورٹی خدشات کو واضح طور پر اجاگر کیا اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف پر مضبوطی سے قائم رہنے کا اعادہ کیا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ خطے میں استحکام اسی صورت میں ممکن ہے جب ان کے جائز سیکیورٹی مفادات کا احترام کیا جائے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی سفارتی پیش رفت کے لیے مخصوص شرائط پر عمل درآمد کا خواہاں ہے اور اس حوالے سے اپنی پالیسی میں کسی قسم کی لچک دکھانے سے فی الحال گریز کر رہا ہے۔ ایرانی حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تاہم بین الاقوامی معاملات میں ان کا موقف اصولی نوعیت کا ہے۔
محسن نقوی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں سیاسی اور عسکری تناؤ اپنے عروج پر ہے اور دنیا بھر کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا پاکستان ایران اور عالمی فریقین کے درمیان کوئی درمیانی راستہ نکالنے میں کامیاب ہو سکے گا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی یہ کاوشیں اگرچہ انتہائی مشکل اور پیچیدہ ہیں، لیکن علاقائی امن کے لیے اس کا ہونا ناگزیر ہے۔ تہران کی جانب سے سخت گیر مؤقف کے باوجود، پاکستان کی جانب سے اس رابطے کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جو مستقبل میں مزید مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
آئندہ دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس سفارتی مشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اثرات کا جائزہ لیا جائے گا، جس میں ایران کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مزید بات چیت کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جائے گا۔ ایران نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اعلیٰ سطحی وفود کے دوروں کا خیرمقدم صرف اسی صورت میں کرے گا جب حالات مناسب ہوں اور باہمی مفادات کو تحفظ حاصل ہو۔ بہرحال، محسن نقوی کا یہ دورہ پاکستان کی متوازن خارجہ پالیسی کے ایک حصے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کا واحد مقصد خطے میں جنگ کے بادلوں کو چھانٹنا اور پرامن بقائے باہمی کے اصولوں کو فروغ دینا ہے۔