World
ڈونلڈ ٹرمپ اور طیارے کی تبدیلی کا واقعہ: سیکیورٹی خدشات پر وضاحت
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد سیکیورٹی خدشات کے باعث انہوں نے اپنا طیارہ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جس دوسرے طیارے میں وہ سوار ہوئے وہ اصل ایئر فورس ون کے مقابلے میں زیادہ خطرے کی زد میں تھا۔
امریکی سیاست کے ایوانوں اور عالمی میڈیا میں اس وقت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وہ بیان موضوع بحث بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد پیش آنے والے ایک سیکیورٹی واقعے کا ذکر کیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق نیٹو اجلاس کے اختتام پر انہیں کچھ ایسے سیکیورٹی خدشات لاحق ہوئے جس کی وجہ سے انہوں نے فوری طور پر اپنے طیارے کو تبدیل کرنے کا غیر معمولی فیصلہ کیا۔ یہ اقدام انتہائی احتیاط کے پیش نظر اٹھایا گیا تھا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ٹالا جا سکے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ انہوں نے جس طیارے کو چھوڑا تھا، اسے ایک طرح کا 'ڈیکوئی' یا دھوکہ دینے والا طیارہ سمجھا جا رہا تھا، جبکہ انہوں نے متبادل کے طور پر جس طیارے کا انتخاب کیا وہ بظاہر زیادہ محفوظ لگ رہا تھا۔ تاہم، حیران کن انکشاف یہ ہے کہ ٹرمپ نے بعد ازاں تسلیم کیا کہ جس دوسرے طیارے میں وہ سوار ہوئے، وہ دراصل اصل ایئر فورس ون کے مقابلے میں زیادہ خطرے کی زد میں تھا۔ اس بیان نے سیکیورٹی ماہرین کے لیے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا واقعی ان کا طیارہ کسی بڑی سازش یا خطرے کا ہدف تھا۔
یہ صورتحال اس وقت پیش آئی جب بین الاقوامی سطح پر نیٹو کا سربراہی اجلاس جاری تھا، جہاں دنیا بھر کے رہنماؤں کی آمد و رفت کے باعث سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی زندگی کو لاحق ممکنہ خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی حکام نے انہیں فوری طور پر طیارہ بدلنے کا مشورہ دیا تھا، جس پر انہوں نے فوری عملدرآمد کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر اوقات جب وہ سفر کرتے ہیں تو انہیں ایسے کئی خفیہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے بارے میں عام لوگوں کو علم نہیں ہوتا۔
اس واقعے نے ایک بار پھر عالمی رہنماؤں کی حفاظت اور ان کے سفر کے دوران اختیار کیے جانے والے پروٹوکول پر بحث چھیڑ دی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے اس معاملے کی تفصیلات زیادہ واضح نہیں کیں، لیکن ان کا یہ بیان امریکی خفیہ ایجنسیوں کے کام کرنے کے انداز اور سربراہان مملکت کو درپیش خطرات کی نوعیت پر ایک نئی روشنی ڈالتا ہے۔ فی الحال، امریکی حکام کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے، جس سے قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہے۔