World
یمن: باب المندب میں حوثیوں کے حملے میں 6 افراد کی ہلاکت
یمنی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے باب المندب میں حوثی باغیوں کے ایک حملے کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعہ اس بحری جہاز پر پیش آیا جو مصر کی ملکیت بتایا جاتا ہے اور اسے خطے کی حالیہ کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
یمنی حکومت نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ آبنائے باب المندب میں حوثی باغیوں کی جانب سے کیے گئے ایک بحری حملے کے نتیجے میں 6 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ حکومتی ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایک تجارتی جہاز 'تہامہ' پر کیا گیا جو مصر کی ملکیت ہے۔ اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ یہ پہلی بار ہے کہ کسی بحری جہاز پر حملے کے نتیجے میں براہِ راست انسانی ہلاکتوں کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی کی ایک انتہائی تشویشناک صورت ہے، خاص طور پر جب سے ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ میں اضافہ ہوا ہے، تب سے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم تجارتی راستوں پر اپنے حملوں کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔ 'تہامہ' نامی جہاز پر ہونے والا یہ حملہ جہاز رانی کی سیکیورٹی کے حوالے سے بڑے سوالات اٹھا رہا ہے، جس سے بین الاقوامی تجارت اور سپلائی چین کے متاثر ہونے کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں اور متاثرہ جہاز کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، عالمی طاقتیں اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے اس واقعے پر ابھی تک کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم اس قسم کے واقعات سے خطے میں عسکری کشیدگی بڑھنے کا قوی امکان ہے، جس کے پیشِ نظر بحری سیکیورٹی کو مزید سخت کرنے کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ باب المندب کا یہ راستہ عالمی تیل کی ترسیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کے لیے ایک لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر اس راستے پر حملوں کا سلسلہ نہ روکا گیا تو نہ صرف عالمی معیشت پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے بلکہ خطے میں ایک نئی جنگ کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ عالمی برادری نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ انسانی جانوں کے مزید ضیاع اور بحری تجارت کے نقصان کو روکا جا سکے۔