World
زمبابوے جھیل کاریبا حادثہ: کشتی ڈوبنے سے بڑی تباہی
زمبابوے کی جھیل کاریبا میں ایک مسافر بردار کشتی کے الٹنے کے المناک حادثے میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زیادہ سواریاں موجود تھیں جبکہ حادثے کے بعد 27 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
زمبابوے کی جھیل کاریبا میں ایک انتہائی المناک اور افسوسناک حادثہ پیش آیا ہے جہاں مسافروں سے بھری ہوئی ایک کشتی پانی میں الٹ گئی جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق 15 افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ مقامی حکام اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کشتی میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے جس کی وجہ سے وہ توازن برقرار نہ رکھ سکی اور اچانک گہرے پانی میں ڈوب گئی۔ اس حادثے نے پورے خطے میں سوگ کی فضا پیدا کر دی ہے اور متاثرہ خاندانوں میں کہرام مچا ہوا ہے۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ کشتی کے ڈوبنے کے بعد سے اب تک 27 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ جھیل کاریبا کے وسیع و عریض علاقے میں غوطہ خوروں اور کشتیوں کی مدد سے لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم پانی کی گہرائی اور خراب موسمی حالات ریسکیو ٹیموں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ لاپتہ افراد کے زندہ بچ جانے کے امکانات بہت کم ہیں، جس سے ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ حادثے کی بنیادی وجہ کشتی پر مسافروں کی تعداد کا مقررہ حد سے زیادہ ہونا تھا، جسے عموماً 'اوور لوڈنگ' کہا جاتا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ کشتی کے کپتان نے اتنے زیادہ مسافروں کو سوار کرنے کی اجازت کیسے دی اور کیا کشتی کے پاس حفاظتی آلات جیسے لائف جیکٹس موجود تھیں یا نہیں۔ یہ واقعہ زمبابوے میں نقل و حمل کے شعبے میں حفاظتی معیارات کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔
حکومت نے جھیل میں سفر کرنے والی کشتیوں کے حوالے سے سخت حفاظتی ضوابط پر نظرثانی کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کو روکا جا سکے۔ فی الحال تمام تر توجہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔ علاقے کے رہائشی اور متاثرین کے لواحقین صدمے کی حالت میں ہیں اور حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ مقامی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جھیل میں کشتی رانی کے دوران حکومتی ہدایات پر عمل کریں اور اپنی جانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔