World
بشار الاسد کو سزائے موت: ادلب میں عوام کا جشن
شام کے علاقے ادلب میں شہریوں کی بڑی تعداد نے سابق صدر بشار الاسد کو عدالتی فیصلے میں سزائے موت سنائے جانے پر سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ یہ اقدام طویل عرصے سے جاری خانہ جنگی کے متاثرین کے لیے ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
شام کے علاقے ادلب، جو طویل عرصے سے شامی انقلاب اور اپوزیشن کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے، میں ایک غیر معمولی جوش و خروش کا منظر دیکھنے میں آیا۔ یہ خوشی اس وقت دیکھی گئی جب ایک عدالتی فیصلے میں معزول صدر بشار الاسد کو سزائے موت سنائی گئی۔ ادلب کی گلیوں میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد نکل آئی اور انہوں نے اس فیصلے کو مظلوم شامی عوام کے لیے انصاف کی فراہمی کا پہلا بڑا قدم قرار دیا۔ لوگوں نے پرچم لہرائے اور نعرے بازی کی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شامی عوام طویل جنگ اور تکالیف کے باوجود اپنے ماضی کے حکمرانوں کے احتساب کے لیے پرعزم ہیں۔
اس عدالتی فیصلے کے بعد ادلب میں جمع ہونے والے مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک علامت ہے جنہوں نے بشار الاسد کے دورِ اقتدار میں شدید ظلم و ستم برداشت کیا ہے۔ ادلب، جہاں اس وقت بڑی تعداد میں بے گھر افراد اور حکومت مخالف عناصر موجود ہیں، اس فیصلے کو اپنی جدوجہد کی کامیابی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ عملی طور پر اس سزا پر عمل درآمد کے لیے ابھی قانونی اور سیاسی رکاوٹیں موجود ہیں، لیکن مقامی آبادی کے لیے یہ خبر ایک بہت بڑا جذباتی ریلیف ثابت ہوئی ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ ادلب میں ہونے والا یہ جشن شامی معاشرے کی تقسیم اور وہاں جاری سیاسی بحران کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک طرف جہاں ادلب کے شہری سڑکوں پر نکل کر خوشی منا رہے ہیں، وہیں یہ فیصلہ شام کے مستقبل پر مزید گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ یہ عدالتی کارروائی نہ صرف بشار الاسد کی حکومت کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے بلکہ یہ ان عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو شام میں سیاسی حل کی تلاش میں ہیں۔
ادلب میں جاری یہ جشن اس بات کی علامت ہے کہ شامی عوام اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو فراموش کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق، شہر کے مرکزی مقامات پر لوگوں نے مٹھائیاں تقسیم کیں اور بشار الاسد کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ اس صورتحال کے پیش نظر، علاقے میں سیکیورٹی کے انتظامات بھی سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے، جبکہ جشن کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہا۔