World
کولمبیا میں زلزلے کے بعد کی صورتحال: کالی شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی
کولمبیا کے شہر کالی میں حالیہ تباہ کن زلزلے کے بعد صورتحال انتہائی سنگین ہے اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے لوگوں کو نکالنے کا کام ہنگامی بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔
کولمبیا کا شہر کالی اس وقت ایک بڑے انسانی المیے سے دوچار ہے کیونکہ گزشتہ دنوں آنے والے زلزلے نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کالی، جو ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ شہروں میں سے ایک ہے، وہاں ہر طرف تباہی کے مناظر دیکھے جا سکتے ہیں۔ ملبے کے ڈھیروں میں تبدیل ہونے والی رہائشی عمارتیں اور سڑکیں اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ اس زلزلے کی شدت کتنی زیادہ تھی۔ مقامی حکام اور امدادی ٹیمیں دن رات ملبے تلے دبے افراد کو تلاش کرنے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم سازوسامان کی کمی اور دشوار گزار راستوں کے باعث یہ کام بہت مشکل ہو چکا ہے۔
الجزیرہ کی لاطینی امریکہ کی ایڈیٹر لوسیا نیومین نے کالی کے متاثرہ علاقوں سے رپورٹنگ کرتے ہوئے بتایا کہ زمین پر صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے براہ راست رپورٹنگ کے دوران اس بات کی نشاندہی کی کہ لوگ کس طرح اپنی زندگی بھر کی کمائی کو چند سیکنڈوں میں خاک میں ملتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ متاثرین کی ایک بڑی تعداد کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہے کیونکہ ان کے گھر مکمل طور پر زمین بوس ہو چکے ہیں۔ طبی سہولیات کی فراہمی بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ ہسپتالوں میں جگہ کم پڑ رہی ہے اور زخمیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
شہر کے مختلف حصوں میں ابھی بھی بہت سے خاندان لاپتہ ہیں، جن کے لواحقین انتہائی اضطراب کے عالم میں ملبے کے پاس کھڑے اپنے پیاروں کے ملنے کی دعائیں کر رہے ہیں۔ حکومت نے متاثرہ علاقوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور عالمی برادری سے بھی مدد کی اپیل کی گئی ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق زلزلے سے ہونے والا معاشی نقصان اربوں ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جس کے اثرات کولمبیا کی معیشت پر طویل عرصے تک رہیں گے۔ فی الحال اولین ترجیح ملبے کے نیچے پھنسے لوگوں کو نکالنا اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد پہنچانا ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو کم سے کم کیا جا سکے۔
مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں ایسا ہولناک زلزلہ کبھی نہیں دیکھا۔ کالی شہر کے مکینوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بحالی کے کاموں میں تیزی لائی جائے اور متاثرین کو فوری طور پر راشن اور خیمے فراہم کیے جائیں۔ امدادی کارروائیوں میں جہاں مقامی رضا کار بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، وہیں بین الاقوامی تنظیمیں بھی متاثرین کی مدد کے لیے پہنچ رہی ہیں۔ آنے والے دن کولمبیا کے لیے ایک کٹھن امتحان ہیں، جہاں ایک طرف تو جان بچانے کا عمل جاری ہے تو دوسری طرف بنیادی سہولیات کی بحالی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔