LIVE
Loading Breaking News...

خلیج میں بحری جہازوں پر حملے: 3 پاکستانی جاں بحق

News Image
بحر احمر اور خلیج عمان میں بحری جہازوں پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں تین پاکستانیوں سمیت چھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یمن کے کوسٹ گارڈ کے مطابق یہ حملے حوثی باغیوں کی جانب سے کیے گئے جس میں امدادی ٹیموں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
خلیجی اور سمندری حدود میں پیش آنے والے افسوسناک واقعات میں تین پاکستانیوں سمیت چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ واقعات بحر احمر اور خلیج عمان کے قریب پیش آئے جہاں عالمی تجارت کے اہم راستوں پر کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ یمن کے کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق تنزانیہ کے پرچم بردار جہاز 'تہامہ' پر حوثی باغیوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کے ارکان ہلاک ہوئے جن میں تین پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری شامل ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب جہاز میں آگ لگی ہوئی تھی اور امدادی ٹیمیں عملے کو نکالنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اسی دوران ایک اور میزائل نے امدادی آپریشن کو نشانہ بنایا جس سے کئی مزید ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات پیش آئے۔ دوسری جانب باب المندب کے قریب ایک سعودی جہاز پر حملے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جس کے بارے میں حوثی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ جہاز سعودی فوجی سازوسامان لے جا رہا تھا۔ اگرچہ اس واقعے کی تصدیق ریاض کی جانب سے نہیں کی گئی، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی بحری نقل و حرکت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ان حملوں کے بعد سمندری گزرگاہوں پر سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر تجارت اور توانائی کی سپلائی لائنز بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے تاحال دفتر خارجہ نے جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے بارے میں کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم واقعے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایک اور اہم پیشرفت میں خلیج عمان کے قریب پاناما کے پرچم بردار کنٹینر شپ 'ویلا نووا' کو امریکی فورسز نے نشانہ بنایا۔ امریکی سینٹ کام کے مطابق یہ جہاز ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہا تھا جسے بار بار انتباہ کے باوجود نہ رکنے پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے میزائل مار کر ناکارہ بنا دیا گیا۔ بحری سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ جہاز پاکستان کے ساحل سے تقریباً 71 سمندری میل دور تھا۔ یہ واقعہ اپریل سے شروع ہونے والی امریکی ناکہ بندیوں کے سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کے تحت ایران سے منسلک سمندری تجارت کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عالمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان واقعات سے خلیجی ممالک کی سمندری حدود میں شدید غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے جس کا اثر براہ راست عالمی تیل کی قیمتوں اور تجارت پر پڑ سکتا ہے۔