Pakistan
میر رضا قتل کیس: تحقیقات میں پیش رفت اور وزیراعلیٰ سندھ کا اہم بیان
سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے میر رضا قتل کیس میں پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کی جانب سے غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔ کیس کی تحقیقات میں پیش رفت کے ساتھ ہی تحقیقاتی ٹیم میں مزید دو افسران کو شامل کر لیا گیا ہے جبکہ ایف آئی اے سائبر کرائم نے آن لائن بدنامی کی مہم پر چار افراد کو طلب کر لیا ہے۔
کراچی میں نوجوان بزنس مین میر رضا کے بہیمانہ قتل کے کیس میں تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے متاثرہ خاندان کو شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہر مرحلے پر پیش رفت سے آگاہ رکھا جائے گا۔ آرٹس کونسل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عدالتی کمیشن بنانے کا مقصد قتل کی تحقیقات نہیں بلکہ پولیس اور میڈیکو لیگل حکام کی جانب سے ہونے والی غفلت کی نشاندہی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کے حل ہونے کے بعد ان تمام ذمہ داران کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی کی جائے گی جن کی لاپرواہی سے تحقیقات میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق میر رضا کی پہلی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی کیمیکل انیلیسز سے ان کی قمیض پر تیزاب کے نشانات کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ گولی لگنے کے مقام پر گن شاٹ ریزیڈیو بھی پائے گئے ہیں۔ کیس کی گہرائی تک پہنچنے کے لیے گلستان جوہر کے علاقے میں جیو فیننگ اور مقتول کے موبائل فون کا کال ڈیٹا ریکارڈ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ متاثرہ خاندان کے وکیل جبران ناصر کی درخواست پر ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی ٹیم میں دو نئے ارکان ڈی ایس پی سراج لاشاری اور انسپکٹر محمد علی کو شامل کیا گیا ہے تاکہ کیس کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا سکے۔
دوسری جانب، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے دائر کردہ شکایت پر چار افراد کو طلب کر لیا ہے۔ یہ کارروائی میر رضا قتل کیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی مواد پھیلانے کے خلاف کی گئی ہے۔ این سی سی آئی اے نے سید عبداللہ، امین قریشی، بلال وارثی اور عبید قریشی کو کراچی آفس میں 13 اگست کو پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ شرجیل انعام میمن نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے اور ان کے صاحبزادے کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے جس میں انہیں گلستان جوہر کے گیسٹ ہاؤس سے غلط طور پر منسوب کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ آئی بی اے سے فارغ التحصیل اور کھانے کے کاروبار سے وابستہ میر رضا 28 جولائی کو لاپتہ ہوئے تھے، جن کی لاش اگلے روز گلستان جوہر کے علاقے میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔ اس ہلاکت خیز واقعے نے شہر بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے تحقیقاتی ٹیم میں اضافہ اور عدالتی کمیشن کی تشکیل پر مشاورت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔