World
ایران کی دھمکی اور ٹرمپ کا ترکیہ سے خفیہ انخلا
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد ترکیہ سے انتہائی خفیہ طریقے سے ایک چھوٹے طیارے کے ذریعے منتقل کیا گیا تھا۔ یہ اقدام سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر اٹھایا گیا جس کے دوران میڈیا اور حکام کو بڑی پرواز کے بارے میں گمراہ رکھا گیا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گذشتہ ماہ ترکیہ کے دورے کے دوران ایران کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے باعث شدید سیکیورٹی خدشات کا شکار رہے، جس کی وجہ سے انہیں انتہائی خفیہ طریقے سے ترکیہ سے روانہ ہونا پڑا۔ رپورٹ کے مطابق 8 جولائی کو انقرہ سے روانگی کے وقت ڈونلڈ ٹرمپ کو بظاہر ایئر فورس ون میں سوار ہوتے دکھایا گیا، تاہم حقیقت میں وہ اس طیارے کے ساتھ منسلک ایک کیٹرنگ کنٹینر میں منتقل ہو گئے، جس کے ذریعے انہیں ایک چھوٹے سی-32 اے (C-32A) طیارے تک پہنچایا گیا۔ یہ چھوٹا طیارہ انہیں براہِ راست برطانیہ لے گیا، جبکہ میڈیا اور کئی حکام کو یہی تاثر دیا جاتا رہا کہ ٹرمپ تاحال بڑے طیارے میں موجود ہیں۔
اس معاملے کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی کیونکہ اس سے قبل ایران کی جانب سے ممکنہ حملے کی دھمکیاں امریکی میڈیا میں زیر بحث رہی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس دورے کے لیے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے جدید بوئنگ 747-8 طیارے میں ترکیہ پہنچے تھے، تاہم واپسی کے سفر کے لیے انہوں نے پرانے بوئنگ 747 طیارے کا انتخاب کیا۔ اس وقت ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ پرانے طیارے کا استعمال اس لیے کر رہے ہیں تاکہ برطانیہ میں موجود امریکی فوجی اہلکار نئے طیارے کا معائنہ کر سکیں۔ لیکن نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی میڈیا ذرائع نے واضح کیا کہ یہ تبدیلی دراصل ایرانی پراکسی فورسز کی جانب سے ملنے والی مخصوص سیکیورٹی دھمکیوں کا نتیجہ تھی۔
سیکیورٹی کے سخت انتظامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پرانے طیارے میں سوار صحافیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی کھڑکیوں کے بلائنڈز کو نیچے رکھیں، جو عام طور پر صرف جنگی علاقوں میں پرواز کرتے وقت اختیار کیا جانے والا اقدام ہے۔ اس واقعے کے بعد قطر کے تحفے میں دیے گئے لگژری طیارے کی سیکیورٹی خصوصیات پر بھی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس نئے طیارے میں پرانے ایئر فورس ون طیارے کے برعکس جدید میزائل شکن دفاعی نظام موجود نہیں تھا۔ واضح رہے کہ قطر کے شاہی خاندان نے یہ طیارہ اس وقت عطیہ کیا تھا جب ٹرمپ نے 1990 سے زیر استعمال دو پرانے بوئنگ 747 طیاروں کی خستہ حالی پر شکایات کی تھیں۔ یہ واقعہ بین الاقوامی سطح پر ٹرمپ کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بڑی بحث چھیڑ چکا ہے۔