Pakistan
پیٹرول پمپس کی ملک گیر ہڑتال: پیٹرولیم ڈیلرز کا حکومت کو بڑا الٹی میٹم
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے مطالبات پورے نہ ہونے پر 15 اگست سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے پیٹرول کی فروخت پر اپنے منافع کے مارجن کو 8 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے حکومت کو 72 گھنٹے کا سخت الٹی میٹم جاری کر دیا ہے، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت پر ڈیلرز کے مارجن میں اضافے سمیت دیگر اہم مطالبات کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ اگر حکومت نے دی گئی ڈیڈ لائن کے اندر اپنے وعدے پورے نہ کیے تو 15 اگست بروز ہفتہ صبح 6 بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیے جائیں گے، اور یہ ہڑتال تب تک جاری رہے گی جب تک مطالبات تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔
ملک خدا بخش نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم ڈیلرز کا صبر اب جواب دے چکا ہے۔ ملک بھر سے 14 ہزار سے زائد ممبران ایسوسی ایشن پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدام اٹھائیں۔ ایسوسی ایشن کا بنیادی مطالبہ پیٹرول کی ریٹیل قیمت پر ڈیلرز کے منافع کے مارجن کو 8 فیصد تک بڑھانا ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ موجودہ معاشی حالات، بڑھتی ہوئی افراطِ زر، بجلی اور گیس کے نرخوں اور عملے کی تنخواہوں کے بوجھ تلے ڈیلرز کے لیے کاروبار جاری رکھنا ناممکن ہو چکا ہے، جبکہ موجودہ کمیشن اخراجات پورا کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
ایسوسی ایشن نے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک کو بھی اپنے خدشات سے آگاہ کیا تھا، جس میں یہ یاد دہانی کرائی گئی کہ ماضی میں بھی حکومت کے وعدوں پر ہڑتال کو ملتوی کیا گیا تھا، تاہم دو ہفتوں کا وقت گزرنے کے باوجود مسائل جوں کے توں ہیں۔ ڈیلرز کے مطابق روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام نے پیٹرولیم سیکٹر کو سنگین مالیاتی اور آپریشنل چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے، جس کے باعث ورکنگ کیپیٹل ختم ہو رہا ہے اور انوینٹری میں نقصانات ہو رہے ہیں۔
علاوہ ازیں، پی پی ڈی اے کی ایگزیکٹو کمیٹی نے 'کمپنی ایلوکیشن پالیسی' پر بھی شدید تنقید کی ہے اور اسے ڈیلرز کے کاروباری مفادات کے منافی اور امتیازی قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پالیسی کا فوری طور پر جائزہ لے کر اسے شفاف اور منصفانہ بنایا جائے۔ اب تمام تر نگاہیں حکومت پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ 72 گھنٹوں کے اندر ایسوسی ایشن کے ساتھ مذاکرات کر کے ملک کو پیٹرول کی ممکنہ قلت اور بڑی ہڑتال سے بچا پائے گی یا نہیں۔