Politics
عمران خان کی صحت اور عدالتی کیسز، پی ٹی آئی کا سپریم کورٹ کے باہر مظاہرہ
پاکستان تحریک انصاف نے بانی چیئرمین عمران خان کی بگڑتی ہوئی صحت اور مقدمات میں تاخیر کے خلاف سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا ہے۔ رجسٹرار کی جانب سے آئندہ ہفتے کیسز مقرر کرنے کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین منتشر ہو گئے۔
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کا مقصد بانی چیئرمین عمران خان کی جیل میں بگڑتی ہوئی صحت اور ان کے خلاف زیر التواء مقدمات میں غیر معمولی تاخیر کے خلاف آواز اٹھانا تھا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم کو بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں اور انہیں ان کے ذاتی معالجین اور اہل خانہ تک رسائی دی جائے۔ احتجاج کے دوران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور (صوبائی عہدیداروں) کے ہمراہ موجود تھے جنہوں نے عمران خان کی صحت کے حوالے سے شدید خدشات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوم بانی چیئرمین کی صحت کو لے کر شدید پریشان ہے اور اسے سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب عمران خان وزیراعظم تھے تو انہوں نے سیاسی مخالفین کے ساتھ انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں طبی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی، لیکن آج خود عمران خان کو انصاف کے بنیادی تقاضوں سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ملک کا عدالتی نظام اس وقت ایک بڑے امتحان سے گزر رہا ہے اور اگر عوام کا انصاف پر سے اعتماد اٹھ گیا تو حالات سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
احتجاج کے دوران پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار سے ملاقات کی اور مطالبہ کیا کہ عمران خان کے مقدمات کو جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کیا جائے۔ ملاقات کے بعد سلمان اکرم راجہ نے میڈیا کو بتایا کہ رجسٹرار نے یقین دہانی کرائی ہے کہ بانی چیئرمین کے تمام زیر التواء کیسز آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کر دیے جائیں گے اور اس حوالے سے کاز لسٹ بھی جاری کی جائے گی۔ اس یقین دہانی کے بعد تحریک انصاف نے اپنے احتجاجی دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔
تاہم، پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ جمعرات کو حقیقی آزادی کے لیے دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے اور پرامن احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ارباب اختیار کو تنبیہ کی کہ وہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھیں اور ملک کو آئینی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی طرف لے کر جائیں، بصورت دیگر عوامی غم و غصہ بے قابو ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کو اپنے وقار کی بحالی کے لیے انصاف کا بول بالا کرنا ہوگا تاکہ عوام کی آخری امید زندہ رہ سکے۔