Pakistan
پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کی ضرورت پر سینیٹ کمیٹی کا اظہارِ تشویش
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے کردار اور اس کے وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ کام کے انضمام پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ چیئرپرسن شیری رحمان نے واضح کیا ہے کہ اگر اتھارٹی اپنی علیحدہ اور ٹھوس کارکردگی ثابت نہ کر سکی تو اسے ختم کرنے پر غور کیا جائے گا۔
اسلام آباد میں منعقدہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کے اجلاس میں چیئرپرسن سینیٹر شیری رحمان نے پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی (PCCA) کی ضرورت اور اس کی کارکردگی پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اس اتھارٹی کا مینڈیٹ اور کام کا دائرہ کار وزارت موسمیاتی تبدیلی کے کاموں سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے قومی وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب وزارت کے بجٹ میں نمایاں کمی کی گئی ہے اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت فنڈز 3.5 ارب سے کم ہو کر 2.478 ارب روپے رہ گئے ہیں، ایسے میں ایک الگ اتھارٹی قائم کرنا جس میں 24 اسامیاں موجود ہوں، ناقابل فہم ہے۔ سینیٹر شیری رحمان نے سوال اٹھایا کہ جب تمام متعلقہ ذمہ داریاں پہلے ہی وزارت کی آئینی اور انتظامی حدود میں آتی ہیں تو ایک متوازی ڈھانچہ بنانے کا کیا جواز ہے؟
کمیٹی اجلاس کے دوران اس بات پر بھی بحث ہوئی کہ کیا پاکستان کلائمیٹ چینج اتھارٹی کے پاس کوئی ایسا منفرد فنی اختیار ہے جو وزارت کے پاس نہ ہو؟ سینیٹر شیری رحمان نے وزارت کے حکام کی اتھارٹی میں ڈیپوٹیشن پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ ادارہ جاتی نقل اور ایک ہی قسم کی مہارت کو بار بار ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے مترادف ہے۔ کمیٹی نے سیکریٹری موسمیاتی تبدیلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ اگلے اجلاس میں اتھارٹی کے قیام کے جواز، اس کے مالیاتی اثرات اور بین الاقوامی فنڈز بشمول گرین کلائمیٹ فنڈ تک رسائی کے حوالے سے جامع رپورٹ پیش کریں۔ کمیٹی کا یہ دو ٹوک موقف ہے کہ اگر اتھارٹی اپنی کارکردگی اور منفرد افادیت ثابت کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اسے ختم کر دینا ہی بہتر فیصلہ ہوگا۔
اس اجلاس میں گلیشیئر پگھلنے کے بڑھتے ہوئے خطرات اور گلیشیر لیک آؤٹ برسٹ فلڈز (GLOF) کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندے نے بتایا کہ پاکستان میں 30 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ان کے پگھلنے کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ تاہم، کمیٹی کے ارکان نے بریفنگ کے معیار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ہی معلومات پچھلے سال بھی فراہم کی گئی تھیں لیکن زمینی حقائق میں کوئی نمایاں بہتری نظر نہیں آئی۔ سینیٹر شیری رحمان نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور محکمہ موسمیات کو ہدایت کی کہ وہ باہمی ہم آہنگی کو بہتر بنائیں تاکہ آنے والے خطرات سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی تیار کی جا سکے۔
آخر میں، کمیٹی نے اسلام آباد میں پلاسٹک بک کورز پر پابندی کے ایکٹ 2026 کے نفاذ کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر شیری رحمان نے دارالحکومت میں پلاسٹک کے بڑھتے ہوئے استعمال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صرف قوانین بنانے سے کچھ نہیں ہوگا، جب تک ان پر سختی سے عمل درآمد نہ کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پلاسٹک کے متبادل کے طور پر سستی اور ماحول دوست مصنوعات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ عام شہریوں اور خاص طور پر نچلے طبقے کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ کمیٹی نے حکام کو تاکید کی کہ وہ پلاسٹک کے خاتمے کے لیے ایک عملی اور جامع منصوبہ بندی کریں تاکہ ماحولیاتی آلودگی کے بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایا جا سکے۔