Politics
مودی کی پاکستان پالیسی اور پاک بھارت تعلقات کا مستقبل
حال ہی میں 117 ممتاز شخصیات نے پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے، تاہم بھارت کی جانب سے جاری سخت گیر رویہ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ نریندر مودی کی حکومت پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کے رابطے سے گریز کر کے خطے میں اپنی نام نہاد بالادستی برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔
گزشتہ ماہ پاکستان اور بھارت کے 117 ممتاز سماجی کارکنوں اور سابق عہدیداران نے ایک مشترکہ خط کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعظم شہباز شریف پر زور دیا تھا کہ وہ دونوں ممالک کو درپیش معاشی، سیکیورٹی اور ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کریں۔ تاہم، ماہرین کا ماننا ہے کہ اس خط کا کوئی عملی نتیجہ نکلنے کا امکان بہت کم ہے۔ بھارت کی جانب سے مذاکرات کا یہ طویل تعطل محض ایک سفارتی فیصلہ نہیں بلکہ یہ ایک باقاعدہ پالیسی ہے جو اسلام آباد کے تئیں دہلی کے منفی رویے کی عکاسی کرتی ہے جس میں تبدیلی کا کوئی اشارہ دکھائی نہیں دیتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہو یا نہ ہو، تعلقات میں کوئی خاص بہتری دیکھنے میں نہیں آئی، لیکن مودی دور میں یہ رویہ غیر معمولی حد تک سخت اور انتہا پسندانہ ہو چکا ہے۔
نریندر مودی کی پاکستان پالیسی بنیادی طور پر ہندوتوا کے ایجنڈے اور آر ایس ایس (RSS) کے نظریات سے جڑی ہوئی ہے۔ 2014 کے بعد سے مودی حکومت نے پاکستان کے خلاف ہٹ دھرمی، عدم برداشت اور مخاصمت کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں جن کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ مودی کا پاپولزم خوف اور شکایت پر مبنی ہے، جس میں وہ عوام کو ایک دشمن کا خوف دلا کر اپنی سیاسی مقبولیت کو یقینی بناتے ہیں۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد سے جس طرح مودی نے عوامی جذبات کو ابھارا اور پاکستان مخالف بیانیے کو تقویت دی، اس نے بھارتی عوام کے ذہنوں میں تلخی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی ناکام کوشش ہے بلکہ یہ خطے میں بھارت کی نام نہاد بالادستی کا برم بھی برقرار رکھنے کا ایک ہتھکنڈہ ہے۔
بھارت کی موجودہ پالیسی کے اثرات مقبوضہ کشمیر اور دریائی پانی کے معاہدوں تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ سندھ طاس معاہدے (IWT) کو بھارت اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہا ہے اور اس کی آڑ میں زمینی حقائق تبدیل کرنے کی کوشش میں ہے۔ عالمی سطح پر بھی بھارتی سفارتکار پاکستان پر بے بنیاد الزامات عائد کر رہے ہیں تاکہ دنیا کی توجہ اپنی داخلی ناکامیوں سے ہٹائی جا سکے۔ دوسری جانب، عالمی سیاست کے بدلتے ہوئے دھارے اور مشرق وسطیٰ میں بھارت کے بڑھتے ہوئے تعلقات، خاص طور پر اسرائیل کے ساتھ قربت، نے پاک بھارت تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس وسیع تر جغرافیائی سیاسی منظرنامے میں امن کا قیام اور بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آخر میں، یہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ جب تک بھارت اپنی سخت گیر پالیسی میں تبدیلی نہیں لاتا، مذاکرات کا کوئی بھی عمل 'کہیں نہ پہنچنے والے راستے' کے مترادف ہوگا۔ بھارت نے خود مذاکرات منقطع کیے تھے اور اب ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے کہ وہ حالات کی سنگینی کو سمجھے۔ پاکستان کے ساتھ مساوی سطح پر بات چیت کرنے کے بجائے بالادستی کا خواب دیکھنا خطے کے امن کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ موجودہ عالمی افراتفری کے دور میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ اور امن کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دونوں جانب سے سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے، لیکن اس کا آغاز دہلی کو اپنے منفی رویے کے خاتمے سے کرنا ہوگا۔