Politics
مکہ دفاعی معاہدہ: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا نیا اتحاد
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا مکہ دفاعی معاہدہ خطے کی سٹریٹجک صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اتحاد نہ صرف بیرونی جارحیت کے خلاف ایک ڈیٹرنس کے طور پر کام کرے گا بلکہ خطے میں امریکہ پر انحصار کو بھی کم کرے گا۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے مابین گزشتہ ہفتے طے پانے والا سہ فریقی دفاعی معاہدہ خطے اور اس سے باہر کے اسٹریٹجک منظرنامے کو تبدیل کرنے والا ایک انتہائی اہم پیشرفت ہے۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا اور خاص طور پر یہ خطہ انتہائی پیچیدہ جنگی حالات سے گزر رہا ہے۔ تینوں ممالک، جن کا تعلق مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور یورپ سے ہے، مختلف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے کے باوجود اب ایک مشترکہ دفاعی ڈھانچے میں بندھ گئے ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب اور پاکستان کے مابین گزشتہ برس ایک دوطرفہ معاہدہ ہوا تھا، لیکن ترکی کی شمولیت نے اس اتحاد کے دائرہ کار کو وسیع کر دیا ہے، جس سے یہ گروپ خطے میں ایک طاقتور عسکری قوت کے طور پر ابھرا ہے۔
مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ (Makkah Joint Defence Agreement) کا مکمل متن تاحال منظرِ عام پر نہیں آیا، تاہم دستیاب اطلاعات کے مطابق اس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ تینوں ریاستوں میں سے کسی ایک پر حملہ، تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق کافی حد تک نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہت رکھتی ہے، حالانکہ عسکری ردعمل کے لیے سیاسی فیصلوں کی ضرورت بدستور موجود رہے گی۔ معاہدے کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ بیرونی جارحیت کے خلاف ایک مؤثر دفاعی ڈھال تیار کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ اتحاد خطے میں امریکہ پر انحصار کو کم کرنے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ ایجنڈے کو روکنے کی ایک شعوری کوشش ہے، کیونکہ حالیہ برسوں میں امریکی دفاعی ضمانتوں کی افادیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
اس معاہدے پر عالمی سطح پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایران کی جانب سے جہاں محتاط ردعمل سامنے آیا ہے، وہیں اسرائیل کی دائیں بازو کی حکومت اس پیشرفت کو اپنے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہی ہے۔ اسی طرح بھارت کو بھی اس معاہدے پر تحفظات ہیں، جس کے باعث بھارت اور اسرائیل کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری میں مزید تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاہدہ محض ایک فوجی اتحاد نہیں بلکہ ایک سیاسی آلہ بھی ہے، جس میں مصر جیسی اہم علاقائی طاقتوں کی شمولیت کے امکانات بھی موجود ہیں۔
مستقبل میں اس معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ تینوں ممالک اپنے مختلف سکیورٹی چیلنجز اور مفادات کے درمیان کیسے توازن قائم کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ اتحاد خطے میں ایک نئی طاقتور سکیورٹی آرکیٹیکچر کی بنیاد ڈال رہا ہے، لیکن اس کے عملی نفاذ کے لیے مشترکہ انٹیلیجنس شیئرنگ اور باہمی اعتماد کا فروغ ناگزیر ہے۔ یہ پیشرفت اس بات کی عکاس ہے کہ علاقائی ممالک اب اپنی سکیورٹی کے تحفظ کے لیے خود کو منظم کرنے کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور غیر ملکی طاقتوں پر روایتی انحصار سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔