LIVE
Loading Breaking News...

جھارکھنڈ امتحان تنازعہ: طلبہ کا احتجاج اور سابق جے پی ایس سی چیف کی گرفتاری

News Image
جھارکھنڈ میں سرکاری امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس معاملے پر ای ڈی کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد سابق جے پی ایس سی سربراہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بھارت کی ریاست جھارکھنڈ میں سرکاری بھرتی کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں اور دھاندلی کے خلاف طلبہ کا احتجاج پیر کے روز انتہائی شدت اختیار کر گیا۔ مظاہرین کی جانب سے اسمبلی کی جانب مارچ کرنے کی کوشش کے دوران پولیس کے ساتھ شدید جھڑپیں ہوئیں، جس کے بعد حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا اور لاٹھی چارج کیا۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ امتحانات میں شفافیت لائی جائے اور ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ احتجاج کے دوران علاقے میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تاکہ صورتحال کو کنٹرول میں رکھا جا سکے۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ تحقیقات کے دوران اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (جے پی ایس سی) کے سابق سربراہ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ای ڈی حکام کا کہنا ہے کہ امتحانات کے انعقاد اور بھرتی کے عمل میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیوں کے شواہد ملے ہیں، جن کی بنیاد پر یہ گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں اس گرفتاری کو ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے آنے والے دنوں میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔ دوسری جانب، ریاستی حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ موجودہ حکومت کے دور میں تعلیمی اداروں اور بھرتی کے عمل میں کرپشن کا بازار گرم ہے، جس کی وجہ سے نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔ طلبہ تنظیموں نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے اور شفاف تحقیقات کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا گیا تو وہ اپنی تحریک کو ریاست گیر سطح پر پھیلانے پر مجبور ہوں گے۔ فی الحال، جھارکھنڈ کے دارالحکومت میں حالات کشیدہ ہیں اور پولیس نے حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ ملکی سطح پر بھی بحث کا موضوع بن چکا ہے، کیونکہ اس میں جے پی ایس سی جیسے باوقار ادارے پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے نوجوانوں کا سرکاری نظام پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔ حکومت کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ طلبہ کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ مستقبل میں منعقد ہونے والے امتحانات مکمل طور پر شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر ہوں۔ ای ڈی کی جاری تحقیقات اس کیس کا اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے جس پر پوری ریاست کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔