LIVE
Loading Breaking News...

ایلون مسک کا 16.8 ارب ڈالر کا میگا پروجیکٹ: دنیا کا سب سے بڑا سیمی کنڈکٹر پلانٹ

News Image
ایلون مسک کی کمپنی اسپیس ایکس اور ٹیسلا ایک انتہائی وسیع سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ فیکٹری 'ٹیرافیب' تعمیر کر رہی ہیں۔ یہ 10 کروڑ مربع فٹ پر محیط منصوبہ دنیا کی موجودہ سب سے بڑی عمارت سے پانچ گنا زیادہ بڑا ہوگا۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کے معروف ترین نام ایلون مسک اپنے وسیع و عریض ٹیکنالوجی ایمپائر کے اگلے مرحلے کے لیے ایک ایسے انفراسٹرکچر کی تیاری کر رہے ہیں جس کی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اسپیس ایکس اور ٹیسلا کی جانب سے 'ٹیرافیب' (Terafab) نامی ایک عظیم الشان پروجیکٹ پر کام شروع کیا گیا ہے، جو دراصل ایک سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ فیکٹری ہے۔ یہ پلانٹ امریکی ریاست ٹیکساس کے علاقے گرائمز کاؤنٹی میں تعمیر کیا جا رہا ہے، اور اس کا تخمینہ لاگت 16.8 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس منصوبے کی سب سے حیران کن بات اس کی جسامت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ سہولت 10 کروڑ مربع فٹ کے رقبے پر پھیلی ہوگی، جو اسے دنیا کی موجودہ سب سے بڑی عمارت کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ بڑا بناتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سیمی کنڈکٹر کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایلون مسک یہ بڑا قدم اٹھا رہے ہیں۔ چپس کی تیاری میں خود کفالت اور ٹیکنالوجی کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے یہ فیکٹری ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ اس پروجیکٹ کے ذریعے مسک نہ صرف ٹیسلا کی گاڑیاں بلکہ اسپیس ایکس کے خلائی مشنز کے لیے درکار پیچیدہ چپس کی تیاری کو بھی مقامی بنانا چاہتے ہیں۔ اس規模 کے کارخانے کا قیام ظاہر کرتا ہے کہ ایلون مسک مستقبل میں مصنوعی ذہانت (AI) اور خود کار گاڑیوں کے شعبے میں کتنی بڑی سرمایہ کاری کرنے جا رہے ہیں۔ اس فیکٹری کی تعمیر سے نہ صرف ہزاروں ملازمتیں پیدا ہوں گی بلکہ یہ مقامی معیشت پر بھی گہرے مثبت اثرات مرتب کرے گی۔ اگرچہ اتنی بڑی عمارت کی تعمیر ایک تکنیکی چیلنج ہے، تاہم ایلون مسک کی کمپنیوں کا ٹریک ریکارڈ بتاتا ہے کہ وہ ناممکن اہداف کو عبور کرنے کے عادی ہیں۔ ٹیرافیب پروجیکٹ ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک نئی دوڑ شروع کرنے کا باعث بنے گا، جہاں کمپنیاں اب کارکردگی کے ساتھ ساتھ اپنی پیداواری صلاحیت کو وسعت دینے کے لیے بے مثال تعمیراتی ڈھانچوں کی طرف متوجہ ہوں گی۔ آنے والے دنوں میں اس منصوبے کے مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوگا کہ یہ سہولت عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ پر کیا اثر ڈالے گی۔