LIVE
Loading Breaking News...

ون اسپیس اور اسپیس ایکس کے درمیان خلائی لانچنگ کا معاہدہ

News Image
ویتنامی کمپنی ون اسپیس نے اپنے سیٹلائٹ مشنز کی لانچنگ کے لیے امریکی کمپنی اسپیس ایکس کے ساتھ باضابطہ معاہدہ کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت 2027 میں ویتنامی سیٹلائٹس کو خلا میں بھیجا جائے گا۔
ویتنام کے معروف کاروباری گروپ 'ون گروپ' (Vingroup) کی ذیلی کمپنی 'ون اسپیس' (VinSpace) نے منگل کے روز ایک اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہوں نے امریکی خلائی ایجنسی اسپیس ایکس (SpaceX) کے ساتھ سیٹلائٹ لانچ کرنے کے لیے ایک تزویراتی معاہدہ طے کر لیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ون اسپیس اپنے مصنوعی سیاروں کو خلا میں پہنچانے کے لیے اسپیس ایکس کے جدید ترین لانچ وہیکلز کا استعمال کرے گی۔ یہ پیش رفت ویتنام کی خلائی ٹیکنالوجی کی صنعت میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس سے ملک کی مواصلاتی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، یہ مشنز 2027 میں شروع کیے جائیں گے، جس کے لیے اسپیس ایکس کے قابلِ اعتماد راکٹس کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ون اسپیس کا کہنا ہے کہ اس شراکت داری کا بنیادی مقصد ویتنام کی خلائی تحقیق اور سیٹلائٹ نیٹ ورک کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف ویتنام بلکہ خطے میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی راہیں کھولے گا، کیونکہ اسپیس ایکس پہلے ہی دنیا بھر میں سیٹلائٹ لانچنگ کے حوالے سے سب سے زیادہ قابلِ اعتماد نام مانا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے مالیاتی پہلوؤں اور تکنیکی تفصیلات کو فی الحال صیغہ راز میں رکھا گیا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ویتنام کو عالمی خلائی معیشت کا حصہ بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ون گروپ، جو ویتنام میں الیکٹرک گاڑیوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں پہلے ہی ایک بڑا نام ہے، اب خلائی صنعت میں داخل ہو کر اپنی ترقی کا دائرہ کار وسیع کر رہا ہے۔ اسپیس ایکس کے ساتھ اس تعاون سے توقع کی جا رہی ہے کہ ویتنام آنے والے برسوں میں ڈیجیٹل رابطوں اور سیٹلائٹ براڈبینڈ سمیت دیگر خلائی سہولیات میں خود انحصاری کی طرف تیزی سے بڑھے گا۔ آئندہ تین سالوں کے دوران اس منصوبے کی تیاری کے مختلف مراحل مکمل کیے جائیں گے۔ ون اسپیس کی ٹیم اسپیس ایکس کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرے گی تاکہ لانچنگ کے دوران کسی بھی قسم کی تکنیکی رکاوٹ نہ آئے۔ یہ معاہدہ اس بات کا عکاس ہے کہ اب ابھرتی ہوئی معیشتیں بھی خلا کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنا رہی ہیں۔ ویتنام کی حکومت نے بھی اس منصوبے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے ملک میں جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔