Technology
نیوزی لینڈ میں ڈیجیٹل ہیلتھ کی ترقی اور ہیلتھ ٹیک کا مستقبل
ڈیجیٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن کی سی ای او سٹیلا وارڈ نے نیوزی لینڈ کی ہیلتھ ٹیک کمپنیوں کی کامیابیوں اور عالمی چیلنجز پر روشنی ڈالی ہے۔ اس گفتگو میں ڈیجیٹل صحت کے شعبے میں جدت طرازی کے مواقع اور مستقبل کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن کی چیف ایگزیکٹو آفیسر سٹیلا وارڈ نے حال ہی میں 'اے پی اے سی آؤٹ لک' میگزین کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو میں نیوزی لینڈ کے ہیلتھ ٹیک شعبے کی ارتقائی منازل پر روشنی ڈالی ہے۔ سٹیلا وارڈ نے اس بات پر زور دیا کہ نیوزی لینڈ کی ہیلتھ ٹیک کمپنیاں کس طرح ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال سے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو تبدیل کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ میں طبی ٹیکنالوجی کی جدت طرازی نہ صرف مقامی سطح پر مریضوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے بلکہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی ان کی مصنوعات کو ایک الگ پہچان حاصل ہو رہی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مشن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ان کا بنیادی مقصد ایک ایسے ڈیجیٹل ایکو سسٹم کو فروغ دینا ہے جہاں ڈیٹا کا محفوظ تبادلہ اور جدید ترین طبی آلات کی دستیابی ہر شہری کا حق ہو۔ سٹیلا وارڈ کے مطابق، نیوزی لینڈ کے ہیلتھ ٹیک اسٹارٹ اپس میں کام کرنے والے ماہرین کی تخلیقی صلاحیتیں انہیں عالمی حریفوں سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیجیٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن ان کمپنیوں کو درکار تکنیکی رہنمائی، پالیسی سازی میں تعاون اور نیٹ ورکنگ کے مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انٹرویو کے دوران سٹیلا وارڈ نے ان چیلنجز پر بھی کھل کر بات کی جو اس شعبے کو درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں جگہ بنانا ایک مشکل مرحلہ ہے، جس کے لیے نہ صرف سرمایہ کاری بلکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق اپنی مصنوعات کو ڈھالنا ضروری ہے۔ سائبر سیکیورٹی، ڈیٹا پرائیویسی اور مریضوں کے حساس ڈیٹا کا تحفظ آج کے دور میں سب سے بڑے چیلنجز ہیں، جن پر قابو پانے کے لیے ڈیجیٹل ہیلتھ ایسوسی ایشن جدید پروٹوکولز پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر ان رکاوٹوں کو حکمت عملی کے ساتھ حل کیا جائے تو نیوزی لینڈ کی ہیلتھ ٹیک انڈسٹری آنے والے برسوں میں دنیا بھر کے لیے ایک ماڈل ثابت ہو سکتی ہے۔