World
اقوام متحدہ: یوکرین تنازع پر پاکستان کا سفارت کاری اور حقوق کے تحفظ پر زور
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں یوکرین کے تنازع پر زور دیا ہے کہ تمام فریقین سفارت کاری کا راستہ اپنائیں۔ اس کے علاوہ قیدیوں اور حویل میں موجود افراد کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کی بھی پرزور وکالت کی گئی ہے۔
اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل کے ایک اہم اجلاس کے دوران پاکستان نے یوکرین کے تنازع پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس بحران کا واحد حل صرف اور صرف بات چیت اور سفارت کاری میں مضمر ہے۔ پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر واضح کیا کہ جنگ کے طویل مدتی اثرات دنیا بھر کے معاشی اور انسانی حالات کو متاثر کر رہے ہیں، لہذا کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں اس بات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ تنازع کے دوران عام شہریوں اور جنگی قیدیوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں اور حویل میں موجود افراد کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنائیں۔ پاکستان کا ماننا ہے کہ انسانی بنیادوں پر اٹھائے جانے والے یہ اقدامات نہ صرف اعتماد کی فضا بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ طویل مدتی امن کے قیام کے لیے بھی راہ ہموار کریں گے۔ عالمی سطح پر پاکستان کے اس مؤقف کو سراہا گیا ہے جو ہمیشہ سے مکالمے، پرامن بقائے باہمی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تنازعات کے حل کا حامی رہا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اجلاس کا بنیادی مقصد یوکرین کی صورتحال اور وہاں جاری انسانی مصائب کا جائزہ لینا تھا، جہاں پاکستان نے اپنی غیر جانبدارانہ اور امن پسند پالیسی کا کھل کر اظہار کیا۔