World
جنوبی لبنان میں اسرائیلی جارحیت: اقوام متحدہ کی رپورٹ اور حالیہ صورتحال
جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی کے دوران اقوام متحدہ کے امن مشن نے اسرائیلی فورسز کی جانب سے مسلسل گولہ باری اور فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ایران سمیت عالمی برادری نے لبنان میں جاری کارروائیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جنوبی لبنان میں جاری شدید کشیدگی کے دوران اقوام متحدہ کے امن مشن (UNIFIL) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ کچھ دنوں کے دوران اسرائیلی فوج کی جانب سے سینکڑوں فضائی حملوں اور ٹینکوں سے گولہ باری کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہ واقعات خاص طور پر ان علاقوں میں پیش آئے جہاں اقوام متحدہ کے امن دستوں کے مراکز قائم ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی کارروائیوں کے دوران گولے اور میزائل ان مقامات کے انتہائی قریب گرے جس سے امن دستوں کی سیکیورٹی کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین اسے علاقے میں جاری تنازعہ کا ایک خطرناک موڑ قرار دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، زمینی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ لبنان کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسرائیلی ڈرون حملے میں ایک ایمبولینس کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوئے۔ لبنان نے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ تاہم، اسرائیلی فوج (IDF) نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی کارروائیاں صرف عسکری اہداف کے خلاف ہیں، لیکن غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جنوبی لبنان کے مختلف دیہی علاقوں میں اسرائیلی ڈرون حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں کی بھی تصدیق ہوئی ہے جس سے مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
اس صورتحال پر ایران نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صہیونی حکومت کے لبنان میں کیے جانے والے جرائم کی شدید مذمت کی ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ خطے میں اسرائیلی جارحیت کا مقصد عدم استحکام پیدا کرنا ہے اور عالمی برادری کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر جنوبی لبنان میں یہ کشیدگی اسی طرح جاری رہی تو یہ ایک وسیع تر علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔ اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کریں اور اپنے مراکز کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں۔
مستقبل کے حوالے سے خدشات بدستور برقرار ہیں کیونکہ فریقین کے مابین کسی قسم کے سمجھوتے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔ جنوبی لبنان کی سرحدوں پر اسرائیلی ٹینکوں کی نقل و حرکت اور فضائی نگرانی میں اضافے کے بعد وہاں تعینات امن دستوں کے لیے معمول کی سرگرمیاں انجام دینا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ شہری مراکز اور طبی عملے کو حملوں سے مستثنیٰ رکھا جائے تاکہ مزید جانی نقصانات سے بچا جا سکے۔