Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی، سپلائی میں تعطل کا خدشہ
بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں جاری کشیدگی اور بحری جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت بیانات نے سپلائی میں خلل کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں تجارتی بحری جہازوں پر ہونے والے حملے ہیں۔ ان حملوں نے عالمی سپلائی چین کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں اور توانائی کے ماہرین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت 83 ڈالر فی بیرل کی سطح سے تجاوز کر گئی ہے، جو گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک اہم پیش رفت ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں جاری یہ کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو قیمتوں میں مزید اضافہ خارج از امکان نہیں ہے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے حوالے سے دیئے گئے بیانات نے مارکیٹ کے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک مخصوص شرائط پوری نہیں کی جاتیں، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر معمول کے مطابق کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔ اس اعلان کے بعد مارکیٹ میں پایا جانے والا وہ معمولی سا اطمینان بھی ختم ہو گیا ہے جو ممکنہ سفارتی سمجھوتوں کی توقعات پر مبنی تھا۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم راستہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا مطلب عالمی منڈی میں تیل کی کمی اور قیمتوں کا بے قابو ہونا ہے۔
عالمی معاشی مبصرین کے مطابق، سٹاک مارکیٹس میں بھی اس صورتحال کے اثرات نمایاں ہیں جہاں کئی اہم انڈیکسز گراوٹ کا شکار ہیں۔ سرمایہ کار اس صورتحال کو جغرافیائی سیاسی بحران کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو طویل مدتی اقتصادی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ جبکہ مغربی ممالک اور خطے کے دیگر اسٹیک ہولڈرز صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن بحیرہ احمر میں جاری حملوں کے تسلسل نے جہاز رانی کی کمپنیوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ کئی کمپنیوں نے اپنے راستے تبدیل کر لیے ہیں، جس سے نہ صرف وقت زیادہ لگ رہا ہے بلکہ نقل و حمل کی لاگت میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ہے، جس کا براہ راست اثر عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔