LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

News Image
عالمی منڈی میں سونے کے نرخ بڑھنے کے بعد پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ امریکی افراط زر کے اعداد و شمار جاری ہونے سے قبل سونے کی فی تولہ قیمت میں 2400 روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کے صرافہ بازاروں میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جہاں فی تولہ قیمت میں 2400 روپے کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کاروباری ہفتے کے دوران سونے کی قیمتوں میں اس تیزی کی بنیادی وجہ عالمی منڈی میں قیمتی دھات کے نرخوں میں ہونے والی پیش رفت ہے۔ ملکی مارکیٹوں میں سونے کے خریدار اور سرمایہ کار اب عالمی اشاروں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں، خاص طور پر امریکی معاشی صورتحال کے حوالے سے اہم اعداد و شمار کے متوقع نتائج نے مارکیٹ کے رجحانات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ امریکی افراطِ زر (Inflation Data) کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری ہونے سے قبل سرمایہ کار محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہیں جس کے باعث عالمی سطح پر سونے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ اس عالمی رجحان کا براہِ راست اثر مقامی صرافہ بازار پر پڑا ہے اور سونے کی قیمتیں ایک بار پھر اوپر کی جانب گامزن ہیں۔ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اس اضافے سے جیولرز اور عام خریدار دونوں ہی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ شادی بیاہ کے سیزن کے باعث سونے کی مانگ میں کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست تعلق بین الاقوامی مارکیٹ اور ڈالر کی قدر کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ جب بھی عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری تصور کرتے ہوئے اس کی طرف راغب ہوتے ہیں، جس سے نرخوں میں اضافہ یقینی ہو جاتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں جہاں عالمی منڈی میں سونا مضبوط ہوا ہے، مقامی سطح پر بھی قیمتیں نئی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ تاجر برادری اور صرافہ مارکیٹ کے نمائندگان کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں امریکی معاشی پالیسیوں کے حوالے سے مزید وضاحت آنے کے بعد سونے کی قیمتوں کا رخ واضح ہوگا۔ اگر عالمی منڈی میں سونے کی تیزی برقرار رہتی ہے تو مقامی سطح پر بھی مزید اضافے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ عوام اور سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مارکیٹ کے بدلتے ہوئے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے فیصلے کریں۔ حکومت اور مالیاتی ادارے بھی عالمی منڈی میں ہونے والی ان تبدیلیوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ ملکی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ لگایا جا سکے۔