World
فوجی تحقیقاتی یونٹ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام
ایک خفیہ اندرونی رپورٹ میں یہ انتباہ کیا گیا ہے کہ سنگین جرائم کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ نئی فوجی یونٹ اب بھی متاثرین کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ادارے کے اندرونی نظام میں ابھی بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔
حال ہی میں منظر عام پر آنے والی ایک خفیہ اندرونی رپورٹ نے دفاعی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ رپورٹ میں یہ سنگین انتباہ کیا گیا ہے کہ فوج کی جانب سے سنگین جرائم کی تحقیقات کے لیے حال ہی میں قائم کی جانے والی نئی یونٹ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کے اپنے بنیادی مقصد میں ناکام ہو سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی رپورٹیں فوجی اداروں کے اندر احتساب کے عمل پر سوالیہ نشان کھڑا کرتی ہیں، خاص طور پر جب بات ایسے حساس نوعیت کے جرائم کی ہو جن کا تعلق براہ راست انسانی حقوق کی پامالی سے ہو۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ نئی یونٹ کی کارکردگی اور اس کے کام کرنے کے طریقہ کار میں تاحال کئی ایسی خامیاں موجود ہیں جو متاثرین کے لیے انصاف کے حصول کو مشکل بنا سکتی ہیں۔ ادارے کے اندر موجود کچھ حکام نے بھی ان خدشات کی تصدیق کی ہے کہ تحقیقاتی عمل میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے مزید سخت اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس رپورٹ نے اس بحث کو بھی دوبارہ جنم دیا ہے کہ آیا فوج کے اندرونی تحقیقاتی نظام اتنے خود مختار ہیں کہ وہ اپنے ہی افسران یا اہلکاروں کے خلاف ہونے والے سنگین الزامات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر سکیں۔ متاثرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فوج کو اپنے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ان خدشات کو دور نہ کیا گیا تو نہ صرف متاثرین کا نظام انصاف پر اعتماد ختم ہو جائے گا بلکہ فوج کی ساکھ کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ حکومت اور فوجی قیادت کی جانب سے تاحال اس رپورٹ کے مندرجات پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ تحقیقاتی عمل کو مکمل طور پر آزاد اور شفاف بنایا جائے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا عسکری قیادت اس رپورٹ کی روشنی میں کوئی ٹھوس اقدامات اٹھاتی ہے یا یہ معاملہ محض فائلوں تک محدود رہتا ہے۔