LIVE
Loading Breaking News...

مغربی کنارے میں اسرائیلی چھاپے اور گھروں کی مسماری، اقوام متحدہ کی وارننگ

News Image
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے چھاپوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے نتیجے میں کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں صورتحال اب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور انسانی بحران سنگین ہو رہا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی جانب سے جاری جارحانہ کارروائیوں اور مکانات کی مسماری کے واقعات نے ایک بار پھر خطے میں حالات کو انتہائی کشیدہ بنا دیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، اسرائیلی فوج نے رات گئے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جن کے دوران 23 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان کارروائیوں کے دوران ایک ایسے فلسطینی شہری کا گھر بھی مسمار کر دیا گیا جسے رواں برس جولائی میں اسرائیلی آباد کاروں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے دوران شہید کیا گیا تھا۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے گھروں کو مسمار کرنے کا یہ عمل اجتماعی سزا کے زمرے میں آتا ہے جسے عالمی قوانین کے تحت شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مقامی عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ چھاپوں کے دوران فورسز نے بھاری مشینری کا استعمال کیا اور متعدد رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچایا جس سے درجنوں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیاں اور آباد کاروں کا تشدد علاقے کو ایک ایسے مقام پر لے آیا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندگان کے مطابق صورتحال اب برداشت کی حد سے باہر ہو چکی ہے اور خطے میں کسی بھی وقت بڑا انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ عالمی ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ جاری تشدد کو فوری طور پر روکا جائے تاکہ مزید تباہی سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب فلسطینی رہنماؤں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے کے عوام کو اپنی ہی زمین پر غیر محفوظ بنا دیا گیا ہے اور عالمی طاقتوں کی خاموشی اسرائیلی حکومت کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے۔ تاحال اسرائیلی فوج کی جانب سے ان کارروائیوں پر کوئی معذرت یا توقف دیکھنے میں نہیں آیا ہے، جس سے مقامی فلسطینی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور پرتشدد واقعات کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔