Politics
ڈونلڈ ٹرمپ اور طیارہ تبدیلی کا معاملہ: سیکرٹ سروس کے کردار پر وضاحت
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے بعد ترکی میں طیارہ تبدیل کرنے کے معاملے پر خاموشی توڑ دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس قسم کے سیکورٹی فیصلے مکمل طور پر سیکرٹ سروس کی صوابدید پر ہوتے ہیں۔
امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر ترکی میں اپنے طیارے کی اچانک تبدیلی کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ سفر کے دوران طیاروں کی تبدیلی یا سکیورٹی کے پروٹوکولز میں کوئی بھی ردوبدل براہ راست ان کے اپنے فیصلوں کے بجائے امریکی سیکرٹ سروس کی ہدایات کے تابع ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی تمام تر نقل و حرکت کا مقصد انتہائی سکیورٹی فراہم کرنا ہے اور اس معاملے میں سکیورٹی حکام کی رائے حرفِ آخر سمجھی جاتی ہے۔
واضح رہے کہ نیٹو اجلاس کے موقع پر جب سابق صدر کا طیارہ ترکی میں تبدیل کیا گیا تو بین الاقوامی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم، ڈونلڈ ٹرمپ نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ مکمل طور پر اپنی سکیورٹی ٹیم اور سیکرٹ سروس کے حفاظتی اقدامات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی دوروں کے دوران اس طرح کی تبدیلیاں معمول کا حصہ ہیں جن کا مقصد ممکنہ خطرات کو ٹالنا اور سربراہِ مملکت کی حفاظت کو یقینی بنانا ہوتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ان لوگوں کے لیے ایک واضح جواب ہے جو اس واقعے کو کسی سیاسی پس منظر سے جوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے یہ واضح کر دیا کہ جب بات سکیورٹی کی ہو تو وہ ذاتی ترجیحات کے بجائے پروفیشنل سکیورٹی پروٹوکولز کو فوقیت دیتے ہیں۔ نیٹو جیسے اہم عالمی فورمز پر جہاں دنیا بھر کے رہنما موجود ہوتے ہیں، وہاں سیکرٹ سروس کی جانب سے اس طرح کے حفاظتی اقدامات انتہائی سخت اور غیر معمولی سمجھے جاتے ہیں۔
آخر میں، سابق صدر نے یہ بھی اشارہ دیا کہ سیکرٹ سروس کے ایجنٹس اور ان کی ٹیم انتہائی مستعدی سے اپنے فرائض سرانجام دیتی ہے، اور کسی بھی طیارے کی تبدیلی یا روٹ میں تبدیلی کا فیصلہ سکیورٹی انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس بیان کے بعد اب اس معاملے پر جاری غیر ضروری قیاس آرائیوں کے ختم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے، کیونکہ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سکیورٹی امور کا ایک معمول کا حصہ قرار دے دیا ہے۔