LIVE
Loading Breaking News...

لیبیا میں پاور اسٹیشن پر ڈرون حملہ: آئل ریفائنری کے قریب صورتحال کشیدہ

News Image
لیبیا کے مغربی شہر زاویہ میں واقع ایک اہم پاور اسٹیشن کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ حملہ ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کے قریب ہوا جس سے علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔
لیبیا کے مغربی شہر زاویہ میں ایک ڈرون حملے نے ملک کی اہم تنصیبات کی سیکیورٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق، یہ ڈرون حملہ شہر میں واقع ایک پاور اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، جو کہ ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کے انتہائی قریب واقع ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں پاور اسٹیشن کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا ہے، تاہم فوری طور پر کسی جانی نقصان یا تیل کی ترسیل میں خلل کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ زاویہ شہر میں واقع یہ آئل ریفائنری لیبیا کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کا حملہ توانائی کی سپلائی لائنوں کے لیے بڑا خطرہ تصور کیا جاتا ہے۔ مقامی سیکیورٹی حکام نے جائے وقوعہ کا معائنہ شروع کر دیا ہے اور اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ حملہ کسی عسکری گروہ نے کیا یا اس کے پیچھے کوئی اور محرکات کارفرما ہیں۔ لیبیا میں طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام اور مسلح گروہوں کے مابین کشیدگی کے باعث ایسی تنصیبات پر حملے عام ہو چکے ہیں جو ملکی معیشت کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، اس حملے سے لیبیا کے توانائی کے شعبے میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے، جس سے نہ صرف ملکی سطح پر بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومتی عہدیداروں نے اس واقعہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی میں اضافے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ علاقے میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے اور مقامی شہریوں میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے کیونکہ یہ ریفائنری لاکھوں لوگوں کے لیے روزگار اور توانائی کا اہم ذریعہ ہے۔ واضح رہے کہ لیبیا میں گزشتہ برسوں کے دوران سیاسی تقسیم اور مسلح گروپوں کے درمیان لڑائیوں نے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے بھی لیبیا کے فریقین پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ وہ ملکی اثاثوں اور عوامی تنصیبات کو سیاسی تنازعات سے دور رکھیں۔ اس تازہ حملے کے بعد ایک بار پھر ملک میں قیامِ امن اور سیکیورٹی کی مضبوطی کے حوالے سے بحث کا آغاز ہو گیا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے بعد ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔