Business
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ | تنگہ ہرمز میں کشیدگی اور توانائی بحران
تنگہ ہرمز میں حالیہ حملوں اور کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اس تازہ صورتحال کی وجہ سے عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کی بنیادی وجہ تنگہ ہرمز کی ممکنہ دوبارہ کشادگی کے حوالے سے پیدا ہونے والی مایوسی ہے۔ خطے میں تازہ ترین حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے توانائی منڈیوں میں جلد استحکام لوٹنے کی امیدوں کو مانند کر دیا ہے۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی عالمی سطح پر برینٹ خام تیل کے نرخوں میں تیزی کا رجحان نظر آیا، جس سے بین الاقوامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
تنگہ ہرمز عالمی سطح پر خام تیل کی نقل وحمل کے لیے انتہائی اہم ترین بحری گزرگاہ تصور کی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کے کل خام تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اس خطے میں ہونے والی عسکری پیش رفت اور حملوں کی وجہ سے جہاز رانی کا نظام شدید متاثر ہوا ہے۔ معاشی ماہرین اور تاجروں کو توقع تھی کہ حالات جلد معمول پر آ جائیں گے اور اس اہم سمندری راستے کی صفائی اور سیکیورٹی بحال ہو جائے گی، لیکن حالیہ حملوں نے ان تمام توقعات پر پانی پھیر دیا ہے اور خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
بین الاقوامی توانائی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برینٹ خام تیل کے ساتھ ساتھ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمتوں میں بھی اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک اور تاجروں کو اندیشہ ہے کہ اگر تنگہ ہرمز کا بحران طویل ہوا تو عالمی سپلائی چین مکمل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف یورپی اور ایشیائی ممالک کو توانائی کی رسد کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ افراط زر کی نئی لہر بھی جنم لے سکتی ہے، جس سے دنیا بھر کی معیشتیں متاثر ہوں گی۔
توانائی کی منڈیوں میں اس عدم استحکام کو ختم کرنے کے لیے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں کی جا رہی ہیں، تاہم حالیہ پُر تشدد واقعات کے بعد تاجروں کا اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک تنگہ ہرمز میں جہاز رانی کے لیے مکمل محفوظ اور پرامن ماحول فراہم نہیں کیا جاتا، تب تک عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں استوار ہونا ممکن نہیں ہوگا اور آنے والے دنوں میں نرخ مزید اوپر جا سکتے ہیں۔